23 فروری کو رمضان المبارک میں آسٹریلیا کی گورنر جنرل، ہر ایکسیلنسی دی آنریبل محترمہ سیم موسٹین اے سی، کے دفتر اور ایس بی ایس کی مشترکہ میزبانی میں گورنر جنرل کی سڈنی میں واقع سرکاری رہائش گاہ ایڈمرلٹی ہاؤس میں بین المذاہب افطار منعقد ہوا۔ اس تقریب میں ایس بی ایس کی انتظامیہِ کےاعلیٰ عہدے داوں کے ساتھ گورنر جنرل ہر ایکسیلنسی دی آنریبل محترمہ سیم موسٹین نے شرکأ کا استقبال کیا۔افطار میں آسٹریلیا کے مسلم، عیسائی اور یہودی مذہبی رہنماؤں، ممبرانِ پارلیمان اور سیاسی و سماجی شخصیات کی نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایس بی ایس اردو اور ایس بی ایس نیوز نے گورنر جنرل سیم موسٹین، آسٹریلین نیشنل امام کونسل کے صدر امام شادی السلیمان اور دیگر اہم افراد کے ساتھ ٹوگیدر فار ہیومینیٹی کے نیشنل ڈائریکٹراور یہودی رابی زلمین کاسٹل اور اسپیشل انوائے ٹو کامبیٹ اسلاموفوبیا آفتاب ملک سے گفتگو کی، جس میں سماجی رواداری، مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور ملک میں اسلاموفوبیا و یہود دشمنی جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ مزید جانئے اس پوڈکاسٹ میں۔
23 فروری کو رمضان المبارک کے موقع پر آسٹریلیا کی گورنر جنرل، ہر ایکسیلنسی دی آنریبل محترمہ سیم موسٹین اے سی، کے دفتر اور ایس بی ایس کی مشترکہ میزبانی میں سڈنی میں واقع ایڈمرلٹی ہاؤس میں بین المذاہب افطار کا اہتمام کیا گیا، جہاں قومی سطح کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اسپیشل انوائے ٹو کامبیٹ اسلاموفوبیا آفتاب ملک نے کہا کہ آسٹریلیا میں پائیدار سماجی ہم آہنگی کے لیے اسلاموفوبیا کا سنجیدہ اور منظم مقابلہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسلم آسٹریلینز کی خدمات اور مثبت کردار کو نمایاں کرنا غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے اعتماد اور شمولیت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
نیشنل ڈائریکٹر ٹوگیدر فار ہیومینیٹی ربی زلمین کاسٹل نے کہا کہ یہود دشمنی کے خلاف مؤثر اقدامات قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول بیرونِ ملک سیاسی معاملات اور مقامی یہودی برادری کو الگ تناظر میں دیکھنا کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ مکالمہ اور تعلیم ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
گورنر جنرل نے آسٹریلیا کے مسلمانوں کے ساتھ اپنے ذاتی قریبی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔۔

آسٹریلین نیشنل امام کونسل (ANIC) کے صدر امام شادی السلیمان نے مغربی دنیا میں مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے پر زور دیا۔ اس افطار میں کئی عیسائی، یہودی اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ آسٹریلیا کے گرینڈ مفتی ڈاکٹر ابراہیم ابو محمد بھی شریک تھے۔





