جب ہم ایسے واقعات یا نظریات کا سامنا کرتے ہیں جو ہماری اپنی سوچ اور عقائد کے خلاف ہوں، تو ہم ایک ایسے احساس سے گزر سکتے ہیں جسے ماہرین “سیاسی غم” قرار دیتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق، یہ احساس معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور پولرائزیشن میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
کیا آپ کے سیاسی نظریات نے آپ کی دوستیوں کو متاثر کیا ہے؟ یا شاید اب آپ خود کو اُس سیاسی جماعت سے وابستہ محسوس نہیں کرتے جسے آپ پہلے ووٹ دیا کرتے تھے؟ ماہرین اس احساس کو “سیاسی غم” کہتے ہیں، اور ان کے مطابق یہ معاشرے میں مزید تقسیم اور پولرائزیشن کا باعث بن سکتا ہے۔ RMIT یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی پروفیسر لاریسا ہیورت نےکہا کہ سیاسی غم میڈیا اور مجموعی طور پر معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
“سیاسی غم کی ایک اہم بات یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے نظریاتی دائرے، یعنی ایکو چیمبرز، میں محدود ہوتے جا رہے ہیں۔”Professor Larissa Hjorth, School of Media and Communication, RMIT University
جو لوگ خود کو بائیں بازو سے وابستہ سمجھتے ہیں اور جو دائیں بازو سے، وہ کسی بھی سطح پر ایک دوسرے کے قریب نہیں آ رہے۔
گریٹن انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں مجموعی سیاسی تقسیم اب بھی کئی دوسری جمہوریتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر دس میں سے صرف ایک آسٹریلین کا کہنا ہے کہ وہ مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے شخص سے دوستی نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، ملک کا سماجی ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہے۔
گریٹن انسٹی ٹیوٹ کے ڈیموکریسی پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر کیٹ گریفتھس کا کہنا ہے کہ آسٹریلین عوام میں وابستگی اور مواقع کا احساس کم ہو رہا ہے، جبکہ ناانصافی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے
“یہ وہ عوامل ہیں جو وقت کے ساتھ لوگوں کو نظام سے دور کر سکتے ہیں یا خود نظام کے بارے میں بے چینی اور بددلی پیدا کر سکتے ہیںKate Griffiths, deputy director of the Democracy Program at Grattan Institute





