تسمانیہ نامزد راستوں کے ذریعے ہنر مند تارکین وطن کو سرگرمی سے تلاش کر رہا ہے۔ لیکن یہاں ایک نئی زندگی کی تعمیر کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کے لیے، صورتحال توقع کے مطابق نہیں ہے۔
"میں نے [لانسٹن جنرل ہسپتال] میں کوشش کی، ایک ڈاکٹر کے طور پر نہیں کیونکہ میں ایسا نہیں کر سکتی ، کیونکہ میرے پاس ابھی لائسنس نہیں ہے۔ اس لیے میں نے انتظامیہ میں، مختلف جی پی سینٹرز میں اسسٹنٹ کے طور پر کوشش کی۔ میں نے کیمسٹ شاپس میں بھی کوشش کی۔"
لیکن رابعہ کو کبھی انٹرویو کی پیشکش بھی نہیں کی گئی۔
اب وہ لیبارٹری میڈیسن میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر رہی ہیں ، امید ہے کہ اس سے جلد ہی انہیں اپنے شعبے میں ملازمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس دوران، وہ بلیو لائن لانڈری میں کام کر رہی ہے، جو ایک ملازمت پر مبنی سماجی ادارہ ہے جو اسی صورت حال میں بہت سے تارکین وطن کو ملازمت دیتا ہے۔
2025 کے آخر میں، وفاقی حکومت نے مائیگریشن سکلز ریکگنیشن ریفارم کے لیے اگلے چار سالوں میں $85 ملین سے زیادہ کے ایک سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا۔
لیکن کاروباری اداروں اور یونینوں کا کہنا ہے کہ اہل افراد کو ان کے پیشوں میں کام کرنے میں مدد کرنے کے لیے مزید اقدام کئے جانے چاہیں۔
اس قسط میں، SBS Examines نے آسٹریلین جاب مارکیٹ میں تارکین وطن کو درپیش کچھ چیلنجوں کے بارے میں سنا ہے، اور ایک دیکھا کہ ایک ادراہ اس حوالے سے کیسے مدد فراہم کر رہا ہے





