شیپارٹن ایک ایسا علاقہ ہے جہاں 30 سے زائد مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بستے ہیں ، ایس بی ایس ایگزامزنے اس شہر کا دورہ کیا تاکہ ان لوگوں سے مل سکیں جو اسے ایک متحرک اور متنوع کمیونٹی بنانے میں معاون ہیں ۔
2021 کی مردم شماری کے مطابق،شیپارٹن میں بسنے والوں کی بڑی تعداد کی جائے پیدائش بھارت، اٹلی، افغانستان، فلپائن، ملائیشیا اور عراق ہیں
اس کے بعد سے، کمیونٹی نے مسلسل ترقی کی ہے،افریقہ اور دنیا بھر سے نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا۔
ژان-ماری موپینڈا کانگو میں پلے بڑھےاور آسٹریلیا میں 19 سال سے رہ رہے ہیں۔ جب وہ پہلی بار شیپارٹن پہنچے تو وہاں تقریبا 10 کانگوسے آنے والے خاندان موجود تھے۔ اب، یہ تعداد 100 سے زیادہ ہیں۔۔
ان کا مقصد نہ صرف کانگوکی کمیونٹی کو جڑنے اور ربط قائم کرنے میں مدد کرنا ہے بلکہ پورے شیپارٹن کو یکجا کرنے میں مدد کرنا ہے۔
اس میں ان کی مقامی جماعت بھی شامل ہے، جہاں پادری میتھیاس پرینزلر چرچ سروسز کی قیادت کرتے ہیں۔
"ہم دو لسانی عبادت کرتے ہیں، اس لیے آپ عبادت کے کچھ حصے انگریزی میں سنیں گے ... لیکن کچھ حصے سواحلی یا کرونڈی یا دیگر زبانوں میں ہوں گے،" انہوں نے ایس بی ایس ایگزامینز کو بتایا۔
شیپارٹن سے چند منٹ دور، دھامی سنگھ 200 ایکڑ پر ’زکینی‘ اگاتے ہیں۔
2008 میں بھارت سے سڈنی منتقل ہونے کے بعد، وہ شیپارٹن سے محبت کرنے لگے اور تب سے وہیں رہ رہے ہیں
"کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ خدا صرف ایک عملی [مذاق] کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جیسے ہم دیکھیں گے کہ کتنے لوگ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں... ہمارے شہر میں تقریبا چھ مساجد ہیں، دو سکھ گردوارے، اتنے سارے گرجا گھر ہیں... ہمیں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا،" انہوں نے SBS ایگزامینز کو بتایا۔
"اس چھوٹی سی کمیونٹی میں رہ کر سب کی محبت حاصل کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔"
اس قسط میں، ایس بی ایس ایگزامینز شیپارٹن کے کچھ مقامی لوگوں سے سنتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ علاقائی شہر اپنی بدلتی ہوئی آبادیاتی خصوصیات کے مطابق کیسے خود کو ڈھال رہا ہے۔




