SKIP TO MAIN CONTENT

COP31 میں بحرلکاہل کے لیے موسمیاتی ترجیحات

Climate change will make some types of extreme weather more common.
The impact of climate change, rising temperatures, and sea levels threaten the existence of many Pacific communities. Source: Shutterstock / Drew McArthur/Shutterstock

پیسیفک کے موسمیاتی نمائندے COP31 میں عالمی سطح پر خطے کی ترجیحات کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔


تاریخِ اشاعت بجے

By Mojdeh Kashani, Tavishek Sharma, Tuipoloa Evan Charlton

پیش کار Mojdeh Kashani, Afnan Malik

ذریعہ: SBS



Skip to podcast episode content

پیسیفک کے موسمیاتی نمائندے COP31 میں عالمی سطح پر خطے کی ترجیحات کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔


ہر سال وہ ممالک جو اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کے فریق ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے عالمی ردِعمل پر بات چیت اور مذاکرات کے لیے کانفرنس آف دی پارٹیز، جسے COP کہا جاتا ہے، میں جمع ہوتے ہیں۔

اس عمل کے نتیجے میں کئی اہم بین الاقوامی معاہدے سامنے آئے ہیں، جن میں 2015 میں COP21 کے موقع پر ہونے والا پیرس معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سیلسیس سے کافی کم رکھا جائے گا، جبکہ اسے 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

اس نومبر میں دنیا بھر کے ممالک COP31 کے لیے ترکیہ میں جمع ہوں گے، جبکہ COP31 ترکیہ-آسٹریلیا شراکت داری کے تحت آسٹریلیا مذاکرات کی صدارت کرے گا۔

پیسیفک جزائر کے ممالک کے لیے یہ مذاکرات محض بین الاقوامی معاہدوں تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی خطے کی مختلف کمیونٹیز کو متاثر کر رہی ہے، جہاں سطحِ سمندر میں اضافہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن رہا ہے، جبکہ خوراک اور پانی کے تحفظ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

خطے کی ترجیحات کو COP31 میں اجاگر کرنے کے لیے تین پیسیفک کلائمیٹ ایلچی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کی توجہ 1.5 ڈگری سیلسیس کے درجہ حرارت کے ہدف کو قابلِ حصول رکھنے، موسمیاتی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے اور عالمی موسمیاتی اقدامات میں سمندروں کو مرکزی حیثیت دینے پر مرکوز ہوگی۔

جس چیز کی ہمیں کمی ہے، وہ سیاسی عزم ہے۔
کرسٹینا ایونیمٹو اسٹیگے

COP31 میں اوشیانا کے لیے پیسیفک ایلچی، مارشل آئی لینڈز سے تعلق رکھنے والی کرسٹینا ایونیمٹو اسٹیگے، اس ہدف کو قابلِ حصول رکھنے کے لیے خطے کی کوششوں کی قیادت کریں گی۔

"اس ہدف کو حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم جیواشم ایندھن پر موجودہ انحصار ختم کریں، جو موجودہ بحران کی وجہ بن رہا ہے۔"

1.5 ڈگری سیلسیس کا ہدف بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہے، اور بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسے حاصل کرنا غیر حقیقت پسندانہ یا بہت مشکل ہے۔

تاہم محترمہ اسٹیگے اس مؤقف کو مسترد کرتی ہیں۔

"سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ اس ہدف تک پہنچنے کے راستے موجود ہیں۔ ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور وسائل بھی۔ جس چیز کی ہمیں کمی ہے، وہ سیاسی عزم ہے۔"

محترمہ اسٹیگے کے لیے اگر درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز بھی کر جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کو یہ ہدف ترک کر دینا چاہیے۔

"ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ درجہ حرارت میں ہر معمولی اضافہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے 1.5 ڈگری کی حد عبور کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں اس ہدف کو ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ سائنسی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہم دوبارہ درجہ حرارت کو نیچے لا سکتے ہیں۔"

لیکن درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کے اندر رکھنا COP31 میں پیسیفک کی واحد ترجیح نہیں ہے۔

درجہ حرارت میں ایک ایک معمولی درجے کا اضافہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
کرسٹینا ایونیمٹو اسٹیگے

پاپوا نیو گنی، مسٹر روئل یامونا کا آبائی ملک ہے، جو COP31 کے لیے پیسیفک کلائمیٹ فنانس تک رسائی کے نمائندے ہیں۔

"آخرکار میرا کام یہ یقینی بنانے میں مدد کرنا ہے کہ موسمیاتی مالی معاونت پیسیفک کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرے۔"

مسٹر یامونا کا کہنا ہے کہ توجہ صرف نئی مالی معاونت کے اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ موسمیاتی مالی معاونت کمیونٹیز تک پہنچے اور اسے ایسے طریقے سے فراہم کیا جائے جو پیسیفک کے ممالک کی ضروریات کے مطابق ہو۔

"ایک اور چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے یعنی adaptation کو بھی اتنی ہی توجہ ملے جتنی کہ اخراج میں کمی یعنی mitigation کو۔ پیسیفک کے لیے adaptation کوئی اختیاری چیز نہیں، بلکہ بقا کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔"

مسٹر یامونا پیسیفک کی قیادت میں تیار کیے جانے والے موسمیاتی حل اور اقدامات کے لیے زیادہ حمایت بھی چاہتے ہیں۔

"یہ باہمی تعاون پر مبنی طریقۂ کار COP31 کی پیسیفک شراکت داری اور پیسیفک اور Voice کے لیے وضع کیے گئے کردار کا بنیادی حصہ ہے۔"

پیسیفک کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنا کوئی اختیاری عمل نہیں، بلکہ بقا کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔
روئل یامونا

تیسرے پیسیفک ایلچی کی توجہ ایک ایسے مسئلے پر ہوگی جو خطے کی شناخت اور بقا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے: سمندر۔

فجی سے تعلق رکھنے والے معزز انیا بی سیروئیراٹو سمندر کے لیے پیسیفک کے ایلچی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر کے ساتھ پیسیفک کے ممالک کا گہرا تعلق انہیں سمندری صحت سے متعلق عالمی مباحث میں ایک منفرد حیثیت اور اختیار فراہم کرتا ہے۔

"پیسیفک کے ممالک عالمی سطح پر سمندروں کے رہنما ہیں کیونکہ سمندر ہماری شناخت کا حصہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے حل کے حوالے سے سمندر کے بغیر کوئی کامیاب حل ممکن نہیں۔"

سمندر اور سمندری ماحولیاتی نظام آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پیسیفک کے ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی ساحلی علاقوں میں واضح نظر آ رہے ہیں۔

"سطحِ سمندر میں اضافہ ہمیں بہت سے طریقوں سے خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ ہماری کمیونٹیز، بنیادی ڈھانچے، میٹھے پانی کے ذخائر اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ طویل مدت میں اس کا اثر پوری پوری قوموں کے قابلِ رہائش ہونے پر پڑ سکتا ہے۔ فجی میں ہم ساحلی کمیونٹیز کو دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں، اور اس عمل کی ایک لاگت ہے۔"

ان اثرات سے لوگوں کی نقل مکانی اور ہجرت کے حوالے سے بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

سطحِ سمندر میں اضافہ ہمیں بہت سے طریقوں سے خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔
معزز انیا بی سیروئیراٹو

فالیپیلی یونین معاہدہ ٹووالو کے منتخب افراد کو آسٹریلیا میں رہائش اختیار کرنے کا ایک راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم مسٹر سیروئیراٹو کا کہنا ہے کہ وسیع تر مسئلہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پیسیفک جزائر کے ممالک کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔

"اندرونِ ملک نقل مکانی اور جبری ہجرت کا مسئلہ انتہائی اہم ہے۔ یہ چھوٹے پیسیفک جزائر کے ممالک کے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کے ساتھ ساتھ ان کی ریاستی حیثیت کے لیے بھی خطرہ ہے۔"

COP31 کے مرکزی مذاکرات ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے سے قبل پیسیفک خطہ فجی اور ٹووالو میں COP31 سے پہلے کے اجلاسوں کی میزبانی کرے گا۔

تینوں ایلچی اس پلیٹ فارم کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف زیادہ مضبوط اقدامات، مالی معاونت تک بہتر رسائی اور سمندروں کے تحفظ میں پیسیفک کے کردار کو زیادہ تسلیم کیے جانے کے لیے استعمال کریں گے۔

پیسیفک کے لیے COP31 محض ایک اور بین الاقوامی اجلاس نہیں ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی بدلتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایلچی چاہتے ہیں کہ عالمی ردِعمل اس حقیقت کی عکاسی کرے۔

______________
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے , اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے SBS Audio کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ ایپل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ پوڈکاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم کا انتخاب کیجئے:  Spotify Podcast , Apple Podcasts


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now