آسٹریلین میوزیم نے راپا نوئی کے 17 باشندوں کی آباؤ اجداد کی باقیات ان کے مشرقی بحرالکاہل میں واقع آبائی وطن کو واپس کر دی ہیں۔ اس واپسی کے بعد برٹش میوزیم میں موجود دیوہیکل مجسموں، یعنی موآئی، کو بھی واپس کرنے کے مطالبات ایک بار پھر زور پکڑ گئے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں مقیم ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ نے خبردار کیا ہے کہ رضامند فریقین کے درمیان ماضی میں طے پانے والے تاریخی معاہدوں کو تبدیل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
راپا نوئی کے 17 باشندوں کے آباؤ اجداد کی باقیات نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔
1882 میں جرمن بحریہ کی ایک مہم کے دوران مقامی لوگوں کی رضامندی کے بغیر انہیں مقدس تدفین کی جگہوں سے نکالا گیا اور بعد ازاں یہ باقیات آسٹریلین میوزیم کے پاس پہنچ گئیں۔
راپا نوئی کے مقامی باشندے وکٹر پاکومیو کے لیے، تقریباً ڈیڑھ صدی بعد ان باقیات کی واپسی نوآبادیاتی دور کے بعد جاری شفا یابی کے عمل کا حصہ ہے۔
وہ کہتے ہیں، "میں روتا ہوں کیونکہ مجھے ماضی میں اپنے لوگوں کی تراش خراش نظر آتی ہے۔"
"میں روتا ہوں کیونکہ مجھے ماضی میں اپنے لوگوں کی تراش خراش نظر آتی ہے۔"وکٹر پاکومیو
راپا نوئی چِلی کا ایک پولینیشیائی خطہ ہے۔ یہ دارالحکومت سینتیاگو سے تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے ایسٹر آئی لینڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ اپنے دیوہیکل مجسموں، جنہیں موآئی کہا جاتا ہے، کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ان باقیات کی وطن واپسی کے اخراجات آسٹریلین میوزیم فاؤنڈیشن نے برداشت کیے۔ میلیسا مالو آسٹریلین میوزیم میں پیسیفیکا کلیکشنز اینڈ انگیجمنٹس کی سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راپا نوئی کے آباؤ اجداد کی باقیات کی واپسی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش ہے۔
مالو کہتی ہیں، "جہاں تعلق قائم ہو چکا ہو، ہم نے مشاورت کی ہو اور واپسی کا ایک راستہ موجود ہو، وہاں آسٹریلین میوزیم کے لیے یہ کام انجام دینا اہم ہے۔"
تاہم دنیا بھر کے دیگر عجائب گھر اب بھی راپا نوئی سے حاصل کیے گئے نوادرات اور انسانی باقیات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ وطن واپسی کے مطالبات کے باوجود برٹش میوزیم کے پاس پتھر سے بنے دو مجسمے، یعنی موآئی، موجود ہیں، جن میں دیوہیکل ہوا ہاکانانائی آ بھی شامل ہے۔
کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی جس کی تلافی ضروری ہو، لہٰذا واپسی کا بھی کوئی جواز نہیں۔ماریو ٹرابوکو ڈیلا ٹوریٹ
ایس بی ایس آور پیسیفک کو دیے گئے ایک بیان میں برٹش میوزیم کے ترجمان نے کہا، "میوزیم راپا نوئی کی موجودہ کمیونٹی کے لیے ہوا ہاکانانائی آ اور موآئی ہاوا کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ انہیں جزیرے سے ہٹائے جانے کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔"
برطانیہ میں مقیم کلاسیکل آثارِ قدیمہ کے ماہر ماریو ٹرابوکو ڈیلا ٹوریٹا، ہوا ہاکانانائی آ کو اپنے پاس رکھنے کے برٹش میوزیم کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
"اس مخصوص معاملے میں میرا کہنا ہے کہ کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی جس کی تلافی ضروری ہو، اس لیے واپسی کا بھی کوئی جواز نہیں۔ 1869 کی ایک رپورٹ موجود ہے جس میں بنیادی طور پر بتایا گیا ہے کہ راپا نوئی کے مقامی لوگ دراصل برطانوی بحری اہلکاروں کی موآئی کو نکالنے میں مدد کر رہے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے ان کی توجہ اس مجسمے کی جانب دلائی، پھر اسے نکالنے میں ان کے ساتھ کام کیا اور بعد میں اسے ایچ ایم ایس ٹوپیز پر منتقل کرنے میں بھی مدد کی۔
لہٰذا اس صورتِ حال میں ہمارے پاس ایک ایسی چیز ہے جو جائز طریقے سے حاصل کی گئی اور جس کے حصول میں کوئی غلط کاری نہیں ہوئی۔ اگر 150 یا 200 سال بعد آ کر آپ کہیں کہ 'نہیں، مجھے یہ واپس چاہیے، یہ سب غلط تھا'، تو میرے نزدیک یہ غلط بات ہے۔ یہ بنیادی طور پر تاریخ کی گھڑی کو پیچھے موڑنے اور ماضی کی ایک متبادل شکل تشکیل دینے کی کوشش ہے۔"
ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی روحانی طاقت واپس لوٹانے دیجیے۔فرانسسکو ناہوے
تاہم راپا نوئی کے مذہبی رہنما فریئر فرانسسکو ناہوے کا ماننا ہے کہ موآئی کی اصل جگہ ان کا آبائی وطن ہے، جہاں انہیں ان کے ثقافتی تناظر میں ہونا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں، "ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی روحانی طاقت واپس لوٹانے دیجیے۔"





