اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد ایران پر متعدد حملے کیے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے بعد علاقائی سطح پر انخلا کا عمل جاری ہے جبکہ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کے مطالبے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بدھ کے روز جب اسرائیل نے حملوں کی ایک تازہ لہر کا آغاز کیا تہران کے مشرق میں دھوئیں کا ایک بادل اٹھتا دیکھا گیا، جو چند گھنٹوں میں تیسرا حملہ تھا ، جس میں ایرانی فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ایرانی قوم مسلط کردہ جنگ کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے ، جیسا کہ وہ اب تک کھڑی ہے- اور مسلط کردہ امن کے خلاف ثابت قدم ہے۔ ایرانی قوم جبر کے سامنے کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔‘‘




