امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد آسٹریلین لیڈرز نے مقامی سطح پر منعقدہ شیعہ مجالسِ عزا کی مذمت کی ہے۔یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے ایرانی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جب ASIO نے اس گروہ کو آسٹریلین سرزمین پر منظم حملوں سے منسلک کیا۔
سڈنی اور میلبورن کی متعدد شیعہ مساجد میں سابق ایرانی رہنما کی یاد میں عوامی تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے ABC کے پروگرام 7.30 میں کہا کہ سپریم لیڈر کے لیے عوامی سوگ آسٹریلین اقدار اور قومی سلامتی سے متصادم ہے۔تاہم شیڈو وزیرِ دفاع جیمز پیٹرسن نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ان خطبات میں IRGC کی حمایت کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
مسٹر پیٹرسن کے مطابق کسی کالعدم دہشت گرد تنظیم کی علامتوں کی نمائش جرم ہے۔
اے این یو میں سیاسیات کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر مائیکل زیکولن نے اس معاملے میں کولیشن کی جانب سے “غیر قانونی” کی اصطلاح کے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔ان کے مطابق یہ بیان غیر ضروری اور نقصان دہ اشتعال انگیزی ہے۔
وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے ان مجالس کو جرم قرار دینے سے گریز کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات پولیس کا معاملہ ہے۔



