اہم نکات
- عمران خان کیخلاف سائفر کیس میں جیل ٹرائل کالعدم قرار
- نیب ریفرنسز میں میاں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت
- سیاسی جوڑ توڑ، صف بندیاں جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان کیخلاف جاری جیل ٹرائل کالعدم قرار دیدیا ہے۔ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سائفر مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہونے سے متعلق دائر کی گئی انٹراکورٹ اپیل منظور کرلی۔ عدالت نے مقدمے کا جیل میں ہونے والے ٹرائل سے متعلق 29 اگست کو جاری ہونے والا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ غیر معمولی حالات میں ٹرائل جیل میں کیا جا سکتا ہے، قانون کے مطابق جیل ٹرائل اوپن یا ان کیمرہ ہوسکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 13نومبر کو کابینہ کی منظوری کے بعد جیل ٹرائل نوٹیفکیشن کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوگا، جیل ٹرائل ممکن ہے لیکن اس کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
عدالت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جج کی تعیناتی درست قرار دے دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کے وکیل تیمور ملک کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی فتح ہے۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہرالنسا نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے انہیں خوشی ہوئی اور کارکنان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ادھر احتساب عدالت کی اڈیالہ جیل میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف 190 ملین پاونڈ سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں، عدالت نے عمران خان نے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نیب ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پرمشتمل دورکنی بینچ نے کی،عدالت نے ائیندہ سماعت فریقین سے دلائل طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ستائیس نومبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگرضرورت پیش آئی تو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے۔
نواز شریف لیگی قائدین کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے گئے تھے۔ سماعت کے آغاز پر سینئر وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ہم پہلے ایون فیلڈ ریفرنس کی اپیل پر دلائل دیں گے،چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل کے لیے کتنا وقت چاہئے ہو گا؟نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شریک ملزمان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں میرٹ پر فیصلہ ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ میں مریم نواز کی اپیل سن چکا ہوں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست سن چکے ہیں،عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ نیب کو کتنا وقت درکا رہو گا؟ جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایاکہ نیب کو قانونی نکات سامنے رکھنے کے لیے آدھے گھنٹے کا وقت چاہیے ہو گا۔وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے استدعا کی کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے،ہماری استدعا ہے اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔ریکارڈ کی باتیں ہیں عدالت کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کریں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایون فیلڈ کیس کی پہلے اپیلوں کا فیصلہ کرنے والا بینچ کوئی اور تھا،وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اپنایاکہ یہ اپیلیں جزوی طور پر سنی گئی۔ان کو نئے سرے سے سننا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا دو رکنی بنچ کی تشکیل کا ایک مقصد ہوتا ہے۔
عدالت نے سماعت نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر دلائل طلب کرتے ہوئے کی کی سماعت ستائیس نومبر بروز سوموار تک ملتوی کردی۔ عدالت میں صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ خاور مانیکا نے کہا ہے اس کے بعد ریاست مدینہ کا نام نہیں لینا چاہیے۔

پاکستان میں عام انتخابات قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں کے سیاسی صف بندیوں، عوامی رابطوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن سے انکی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ دونوں جماعتوں نے ماضی نے بھی مل کر کام کیا ہے ۔ ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں جماعتیں مفاہمت اور ایڈجسٹمنٹ سے آگر بڑھا جائیگا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سابقہ اتحادی جماعت ن لیگ پر تنقید کے نشتر برسا دیئے ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے علاقے میں دیر میں جلسہ عام سے خطات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام نے مہنگائی لیگ کا چہرہ دیکھ لیا، شیر تو بلی نکلا ہے۔ پرانے سیاستدان سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدل چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کیساتھ اتحاد میں شروع شروع میں سب ٹھیک چل رہا تھا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو زرداری کو بدتہذیبی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلاول ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں۔ انہیں اس طرح کا لب و لہجہ زیب نہیں دیتا۔ ن لیگ تلخیاں نہیں بڑھائے گی۔

پیپلزپارٹی نے سندھ میں ایم کیو ایم کی 2 وکٹیں گرا دی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنماوں خواجہ سہیل منصور اور مزمل قریشی نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ ادھر کراچی میٹرو پولیٹین کارپوریشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اسد امان اور ان کے ساتھ 31 یو سی چیئرمینز نے تحریک انصاف چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ 2 روز قبل تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی نواز اعوان، سابق صوبائی وزیر آصف نکئی نے بھی پی ٹی آئی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس مظاہر علی نقوی کیخلاف شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوسر ے روز بھی جاری رہا جس میں جسٹس مظاہر علی نقوی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے بارے میں فیصلہ نہیں ہوسکا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس جس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے وکیل خواجہ حارث نے حتمی فیصلے تک کارروائی مکمل ان کیمرا رکھنے کی استدعا کردی۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کونسل نے آج ہونے والی سماعت میں شکایت کنندگان کا مؤقف سننے کی حد تک کارروائی مکمل کی۔ دوران اجلاس شکایت کنندگان نے تمام شواہد اور متعلقہ دستاویزات کونسل کے سامنے رکھے۔ کونسل نے شکایت کنندگان کو سن کر باہر بھیج دیا، اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کی آپس میں مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے خلاف شکایات کا جائزہ لیے جانے کے علاوہ جسٹس مظاہرنقوی کے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔جبکہ کونسل نے تمام فریقین کو اجلاس کی کارروائی پبلک کرنے سے روک دیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج 3 بجے دوبارہ سپریم کورٹ میں ہوگا جس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شو کاز نوٹس جاری ہونے کا امکان ہے۔
(رپورٹ: اصغرحیات)



