اہم نکات
- قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا تنازعہ
- الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر سماعت
- 190 ملین پاونڈ کیس، عمران خان اور بشرہ بی بی پر فرد جرم عائد
- عام انتخابات کے بعد صدارتی الیکشن کا اعلان
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز اور سندھ میں مراد علی شاہ وزیراعلی منتخب ہوچکے ہیں۔ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان اسمبلیوں کے افتتاحی اجلاس آج طلب کیے گئے ہیں۔ نومنتخب اراکین اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ منگل کے روز نومنتخب وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے گورنر ہاوس میں اپنے عہدے کا حلف لیا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا۔
وفاق میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے نوٹیفکشنز روکے جانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے مخصوص نشستوں کے نوٹیفکشنز تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا ہے۔ صدر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری اعتراض لگا کر واپس بھیج دی ہے۔ذرائع کے مطابق صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔
صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کے فیصلے کے بعد وزارت پارلیمانی امور نے اآئین کے آرٹیکل 91 کی کلاز 2 کے مطابق اسپیکر کے ذریعے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین عام انتخابات کے 21 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا پانبد کرتا ہے۔ اس حوالے سے نگران وزیر پارلیمانی امور مرتضی سولنگی کی سیکرٹری قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے۔ جس میں صدر کی جانب سے اجلاس بلانے سے انکار کے بعد کے قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔

نگران حکومت نے سمری روکنے پر صدر مملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا ہے۔ نگران حکومت نے صدر عارف علوی کو جواب میں لکھا ہے کہ صدر آرٹیکل 91 کے تحت اجلاس نہیں روک سکتے۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ مخصوص نشستیں نہ ہوں تو اجلاس نہیں ہوسکتا۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے صدر کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کو درس اقدام قرار دیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ صدر نہ اجلاس نہ بلا کر بالکل ٹھیک کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی جیتی ہوئی ہے مگر مخصوص نشستیں نہیں دی جا رہیں۔ دھاندلی پر چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ ادھر حکمران اتحاد کے رہنماوں بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار نہ صدر مملکت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے۔ بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار نے صدر عارف علوی کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
تحریک انصاف کی اتحادی جماعت سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں اوپن سماعت ہوئی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی۔ الیکشن کمیشن نے معاملے پر تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نوٹس جاری کر دیئے۔

منگل کے روز سماعت کے دوران ن لیگ کے اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن کے روبرو کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمنٹ میں کوئی منتخب نشست نہیں ہے، نہ ہی اس نے بطور جماعت الیکشن لڑا ہے لہذا اسے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور پارٹی پیش ہوئے ہیں، یہ معاملہ آپ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بیرسٹرگوہر نے کہاکہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا بنیادی حق ہے۔ سمجھ نہیں آرہی دیگر جماعتوں کے اراکین کس حیثیت میں الیکشن کمیشن میں آئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے حکمنامے میں تمام درخواستوں کو یکجا کرنے اور قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ دیا۔ الیکشن کمیشن نے معاملے پر ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان، جی ڈی اے، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔الیکشن کمیشن کا فل بینچ بدھ کو درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی 23 مخصوص نشستیں اگر حکمران اتحاد کو مل گئیں تو چھ جماعتی حکمران اتحاد کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت آجائے گی۔
تحریک اںصاف نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے ملتان سے کامیاب ہونے و الے عامر ڈوگر اور ڈپٹی اسپیکر کیلئے مالاکنڈ سے نومنتخب رکن جنید خان کو نامزد کردیا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے وزرات عظمی کیلئے پہلے ہی عمر ایوب کو نامزد کیا جاچکا ہے۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد عمر ایوب نے ان نامزدگیوں کا اعلان کیا۔ عمر ایوب نے دعوی کیا کہ ان کے امیدوار کامیاب ہونگے۔

احتساب عدالت نے 190 ملین پاونڈ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائدکردی۔ منگل کے روز اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈریفرنس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج ناصرجاوید رانا نے سماعت کی۔کیس کی سماعت کیلئے بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا پیش ہوئے جب کہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے۔ عدالت نے عمران خان اور بشرہ بی بی کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔
عمران خان اور بشرہ بی بی کے وکلا نے کہا کہ فرد جرم سے 7 دن پہلے ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ دستاویزات فراہم کردی جائیں ہم دوبارہ آجائیں گے۔ دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان روسٹرم پر آگئے۔ جج سے مکالمے کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، 8 فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں ریفرنس جلد مکمل ہو۔ جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پہلے بتائیں آپ کےدانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں تو بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا ۔ عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی۔

عام انتخابات کے بعد پاکستان میں صدارتی انتخاب کا دنگل سجنے کو ہے۔ پاکستان میں صدارتی الیکشن 8 یا 9 فروری کو متوقع ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی الیکشن کا شیڈول یکم مارچ کو جاری کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 روز کے اندر کروانا لازم ہے۔ 29 فروری کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی جس کے بعد صدر کے انتخاب کے لیے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائے گی۔
علامیے کے مطابق صدر کے الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے گا۔ 2 مارچ دن 12 بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی پریزائیڈنگ آفسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی سمیت وفاق میں چھ جماعتی اتحاد پہلے کی آصف علی زرداری کو صدارتی امیدوار نامزد کرچکا ہے۔ تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل یا کسی اپوزیشن جماعت کی جانب سے تاحال کوئی بھی صدارتی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ادھر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ ان لوگوں کو جتوایا گیا جو کہیں نظر ہی نہیں آرہے تھے۔ ان کی جماعت خیبرپختونخواہ میں وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر سے بھی لا تعلق رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کی کتھی بڑی سوچ سے الجھائی گئی ہے۔ ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
(رپورٹ: اصغرحیات)



