سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامیوں کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر کے علاوہ آسٹریلیا سے بھی کئی افراد ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بیشتر افراد گرفتاری کو معاشی اور سیاسی بحران میں ڈوبے ملک کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ایس بی ایس اردو سے بات کرتے ہوئے کئی افراد کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اس طریقے سے گرفتاری درست نہیں۔

۔ کچھ افراد کا خیال تھا کہ وہ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ اس سے مزید افراتفری پھیلے گی۔ کچھ خواتین نے جذباتی انداز میں عمران خان کو اسلام پھیلانے والا قرار دیا اور کچھ کے خیال میں عمران خان ملک کی آخری امید ہیں جبکہ کئی افراد ملک میں ہنگامہ آرائی کے دوران اپنے رشتے داروں، عزیز و اقارب اور جاننے والوں کے بارے میں فکر مند نظر آئے۔ بعض افراد نے موجودہ افرا تفری کو ملک کی معیشیت کے لئے اور بھی خراب اور صورتحال کو مایوس کن قراد دیا۔فیڈریشن اسکوائیر میلبورن کے مظاہرین کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک احتجاجی مظاہروں سے پاکستانی حکومت پرعمران خان کی رہائی کے لئے دباؤ بڑھے گا۔




