آسٹریلیا نے 10 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے۔ لیکن معیشت میں تبدیلیوں، حکومتی پالیسیوں، اور آبادکاری کے عمل نے آج پناہ گزینوں کے بسنے کے لیے چیزوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
برہان احمد 1980 کی دہائی میں ایک پناہ گزین کے طور پر سوڈان سے آسٹریلیا آئے تھے۔ انہوں نے ایس بی ایس ایگزامینز کو بتایا کہ اپنے نئے گھر میں نسل پرستی کا سامنا کرنے کے باوجود ان کے لئے آسٹریلیا میں نئے سرے سے بسنے کا عمل کافی ہموار تھا۔
جب وہ یہاں پہنچے تو انہیں جلد ہی ایک فیکٹری میں کام مل گیا۔
"آسٹریلیا، جس وقت میں آیا تھا، ایک مینوفیکچرنگ اکانومی تھی... انہیں ہمارے پٹھوں کی ضرورت تھی، انہیں ہمارے دماغ کی ضرورت نہیں تھی... اس لیے اس جگہ میں ایسا کرنا[بسنا] آسان تھا،" انہوں نے کہا۔
اب، وہ سمجھتے ہیں کہ[نظام کو] پناہ گزینوں کو ناکام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے — آسٹریلیا کی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں کمی کی وجہ سے،ان لوگوں کے لئے روزگار ڈھونڈنا مشکل تر ہوجاتا ہے جو رسمی تعلیم نہیں رکھتے یا انگریزی سے نا بلد ہیں
"یہ[نظام] بدل رہا ہے، اور ہم فرض کر رہے ہیں کہ پناہ گزین بھی بدل گئے ہیں، لیکن نہیں – وہ [پناہ گزین ] ویسے ہی ہیں،" احمد نے کہا۔
"میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اس کا سامنا کررہے ہیں ... سسٹم کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔"
اس قسط میں، ہم آسٹریلیا کے پناہ گزینوں کے ساتھ بدلتے ہوئے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں۔





