Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE

پناہ گزین افراد کے تجربات کیسے تبدیل ہو رہے ہیں؟

Untitled design.png

(L-R) Berhan Ahmed, Gillian Triggs and Christine Castley told SBS Examines Australia's relationship to refugees has changed over time. Credit: SBS, Getty Images

آسٹریلیا نے 10 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے۔ لیکن معیشت میں تبدیلیوں، حکومتی پالیسیوں، اور آبادکاری کے عمل نے آج پناہ گزینوں کے بسنے کے لیے چیزوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔


برہان احمد 1980 کی دہائی میں ایک پناہ گزین کے طور پر سوڈان سے آسٹریلیا آئے تھے۔ انہوں نے ایس بی ایس ایگزامینز کو بتایا کہ اپنے نئے گھر میں نسل پرستی کا سامنا کرنے کے باوجود ان کے لئے آسٹریلیا میں نئے سرے سے بسنے کا عمل کافی ہموار تھا۔

جب وہ یہاں پہنچے تو انہیں جلد ہی ایک فیکٹری میں کام مل گیا۔

"آسٹریلیا، جس وقت میں آیا تھا، ایک مینوفیکچرنگ اکانومی تھی... انہیں ہمارے پٹھوں کی ضرورت تھی، انہیں ہمارے دماغ کی ضرورت نہیں تھی... اس لیے اس جگہ میں ایسا کرنا[بسنا] آسان تھا،" انہوں نے کہا۔

اب، وہ سمجھتے ہیں کہ[نظام کو] پناہ گزینوں کو ناکام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے — آسٹریلیا کی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں کمی کی وجہ سے،ان لوگوں کے لئے روزگار ڈھونڈنا مشکل تر ہوجاتا ہے جو رسمی تعلیم نہیں رکھتے یا انگریزی سے نا بلد ہیں

 "یہ[نظام] بدل رہا ہے، اور ہم فرض کر رہے ہیں کہ پناہ گزین بھی بدل گئے ہیں، لیکن نہیں – وہ [پناہ گزین ] ویسے ہی ہیں،" احمد نے کہا۔

 "میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اس کا سامنا کررہے ہیں ... سسٹم کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔"

 اس قسط میں، ہم آسٹریلیا کے پناہ گزینوں کے ساتھ بدلتے ہوئے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں۔

-آپ SBS اردو کے ساتھ ہیں۔ -سامعین آسٹریلیا نے 1901 سے اب تک ایک

ملین سے زائد پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے۔ تنازعات، تشدد یا ظلم سے بچنے کے لیے

اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے وہ لوگ جو اب واپس جانے سے قاصر ہیں، انہوں نے یہاں اپنا

ایک نیا گھر پا لیا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ پناہ گزین افراد کے تجربے میں وقت کے

-ساتھ کیسے تبدیلیاں آئی ہیں۔ -So we are a schizophrenic country in that

sense that we do. We have had a remarkable record of welcome for refugees, but it's

extremely difficult to get that status of refugees.

یہ گلین ٹریگس ہیں جو اس عمل سے بہت واقف ہیں اور اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کی

Assistant High Commissioner کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں। وہ کہتی ہیں

آسٹریلیا کا پناہ گزینوں کے ساتھ تعلق پیچیدہ ہے۔

We are one of the best in the world with a gold standard for settlement of refugees.

That's outstanding and we've had a long history of doing that. But the difficulty

is that you must be recognized as a refugee with the relevant visa in order to

come here. Once that's achieved, then you get a wonderful resettlement process and

-engagement with the Australian community. -ٹریگس کا کہنا ہے کہ در حقیقت پناہ گزین کا

-درجہ حاصل کرنا ناقابل یقین حد تک مشکل ہے۔ -We also have the dark side of the coin

which is denying access to asylum refugee status and sending people who have arrived

as unlawful maritime arrivals to Nauru in the past also to Papua New Guinea, others

going from Christmas Island to Nauru and denied all the legal rights of a refugee

-under the Refugee Convention. -اسے غیر ملکی Processing کے نام سے جانا

جاتا ہے۔ ایک ایسی Policy جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مستقل تنقید کرتی ہیں۔ Offshore

Processing جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ 2001 سے جاری ہے جب حکومت نے Pacific Solution

متعارف کروایا، Nauru اور Papua New Guinea کو کشتیاں بھیجی جاتی ہیں اور پناہ کے

متلاشیوں کو آسٹریلین سرزمین پر پہنچنے سے روکا گیا۔ یہ سال 2006 تک جاری رہا، جس کے

کچھ عرصے معطل رہنے کے بعد دوبارہ اسے 2012 میں متعارف کروایا گیا اور آج بھی Operation

Sovereign Borders کے نام سے یہ جاری ہے۔ ان Policyوں نے پناہ کے متلاشیوں کے لیے

پناہ گزین Visa حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے اور آباد ہونے کا تجربہ بھی بدل دیا ہے۔

مثال کے طور پر برہان احمد جو Community Organization AFRICAS کے CEO اور مہاجرین

اقدام افریقی Think Tank Incorporation کے سربراہ ہیں۔ سوڈان سے نکلنے کے بعد وہ چودہ

سال کی عمر میں پناہ گزین بن گئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم مصر میں Scholarship پر مکمل کی

اور پھر انہیں کینیڈا، امریکہ یا آسٹریلیا میں بسنے کی پیشکش کی گئی۔ وہ 1980 کی دہائی

میں میلبورن پہنچے。 انہوں نے SBS Exams کو بتایا کہ ان کے Challenges کے باوجود، جیسے

انگریزی بہت اچھے طریقے سے نہ بولنا، وہ کام تلاش کرنے میں کامیاب رہے। اس وقت کے دوران

بہت سے دوسرے تارکین وطن کی طرح ایک Factory میں کام شروع کرتے ہوئے انہیں نوکری

حاصل کرنے کے لیے انگریزی جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔

Australia at the time I came was a manufacturing economy. Any stupid person

can go to any factory and make money. They need our muscles. They don't need our

mind. Keep your brain at home and just come and do the work was the

style. So like most of the Italian, the Greeks or whatever they done in that space

was easy to do that. My journey was somehow smooth in the start, even though

there were so many challenges of racism. But not that racism can stop me because I

-get opportunity to work. -وہ کہتے ہیں اب پناہ گزینوں کے لیے آسٹریلیا

میں بسنا بہت مشکل ہو گیا ہے، خاص طور پر وہ جو رسمی تعلیم حاصل نہیں کرتے یا روانی

-سے انگریزی نہیں بول پاتے ہیں۔ -We putting them in a system where our

system is now service and knowledge economy.

احمد نے SBS Exams کو بتایا کہ آج جب آسٹریلیا میں آباد ہونے کی بات آتی ہے تو

انسانی رابطے کا فقدان ہے، خاص طور پر جب آپ Service فراہم کرنے والوں میں Technology

-کے روزمرہ استعمال کی بات دیکھیں。 -Like now just calling a phone Centrelink

press one, press two, press three, press four. This one in the good old days there

was no they come and help you. So my time was something to that effect. But now it

is changing and I change. We are assuming the refugee also changed. No, they the

same refugee and I've been saying this for a long time now. Humanitarian finishes at

the airport. They bring you in the country on humanitarian ground from the

airport. You walk on your own way. You don't know what's what's the culture,

what's the system, what's the whatever. So I see people going through that. So in a

-sense, the system is not been upgraded. -Clients would say to us, you know, you can

create connection and inclusion. You can connect me to people by introducing me to

them, or you can create inclusion by including me in events and things. But I

really need to feel in my heart that I belong. So that becomes the conundrum.

کرسٹین کیسی آسٹریلین Multicultural Council کی سربراہ ہیں اور کہتی ہیں اس بات کو

یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ آسٹریلیا میں بسنے والوں کا تعلق بسنے

-کے عمل کے دوران قائم ہو جائے۔ -Where we've landed often I think in my

thinking is around creating moments that matter, those moments where you actually

feel like this is a country that welcomes you,

this is a country that meets you where you are, rather than expecting you to be at a

particular place.

And in real terms, that means it's a country that, for example, understands

that there are people who speak many languages rather than just the one

-language. -کیسی Multicultural Framework کے جائزہ کا

حصہ تھیں، جس میں قوم کے کثیر ثقافتی رجحان میں آگے بڑھنے کے لیے انتیس سفارشات پیش کی

گئی تھیں。 ان میں مترجم اور ترجمان کی زیادہ جامع خدمات اور حکومتی محکموں میں ثقافتی

صلاحیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ یہی تبدیلیاں Communities کو آسٹریلیا سے تعلق

بنانے میں معاونت فراہم کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب صورتحال نازک محسوس ہو، جیسے جب

عالمی تنازعات کا اثر ہمارے ساحلوں تک پہنچے.

The rug's pulled from under my feet very, very quickly. So the question then becomes

around how do we as a country, as a community, as individuals actually think

about how we have that those that that enduring connection with people where we

don't seek to kind of revert to tribal and difference and othering of others,

to actually be much more connected, resilient to can ultimately create a

really good version of social cohesion.

سامعین SBS Exams کی یہ قسط اولیویہ ڈی اوریو نے تیار کی، جسے SBS اردو کے لیے پیش

-کیا ہے وردہ وقار نے۔ -لائک کیجئے، شیئر کیجئے، تبصرہ کیجئے。 فیس

بک پر SBS اردو follow کیجئے۔

END OF TRANSCRIPT

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now