بہت سے آسٹریلین شہریوں کی روزمرہ کی زندگی بیت الخلا تک رسائی کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن جب کہ عوامی بیت الخلاء شہری بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں، وہ اکثر غیر محفوظ، ناقابل استعمال یا تلاش کرنا مشکل ہوتے ہیں۔
کام اور اسکول کو چھوڑنا، میٹنگز کو مختصر کرنا اور پانی و کھانے کی مقدار محدود کرنا: یہ وہ کچھ فیصلے ہیں جن کا سامنا بہت سے آسٹریلین عوام کو دستیاب اور قابل رسائی عوامی بیت الخلا کی کمی کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے۔
جیرامی ہوپ، صدر پیپل ود ڈس ایبلٹی آسٹریلیا اور اسپیشلسٹ ڈس ایبلیٹی ہاؤسنگ الائنس کے سی ای او، نے ایس بی ایس ایگزامنز کو بتایا کہ قابل رسائی اور محفوظ عوامی بیت الخلا عزت فراہم کرتے ہیں۔
"کچھ مشکل یہ ہے کہ شرمندگی کے بغیربیت الخلا جا سکوں، کوئی نجی، قابل رسائی اور محفوظ جگہ ہو۔ میرے لیے، اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی وہیل چیئر اور واکر کو نیویگیٹ کر سکتا ہوں،" انہوں نے کہا۔
محقق کیتھرین ویبر نے ایس بی ایس ایگزمنز کو کو بتایا کہ عوامی ٹوائلٹس کو اکثر کم اہمیت دی جاتی ہے۔
جب ہم اپنے منصوبوں، عوامی جگہوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو دیکھتے ہیں تو اکثر یہ سب سے آخری چیز ہوتی ہے جس پر غور کیا جاتا ہے ... لیکن یہ سماجی شمولیت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہیں۔Katherine Webber, researcher and public toilets advocate
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا میں عوامی بیت الخلا کے حوالے سے قانون سازی کی کمی ہے۔
"کسی قانون سازی کی شرط نہیں ہے کہ وہ عوامی نیٹ ورک کا حصہ ہیں، یا ہمارے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
"لہٰذا اگر صارف گروپوں کے درمیان کوئی تنازعہ ہو، یا اگر اسے چلانا بہت مہنگا ہو جائے، تو عوامی ٹوائلٹ بند کرنا مسلسل رسائی یقینی بنانے سے آسان ہو سکتا ہے۔"
اس ہفتے کے قسط میں، ایس بی ایس ایگزامینز پوچھتا ہے — عوامی بیت الخلا عدم مساوات کو کیسے اجاگر کرتے ہیں؟





