کیف پر حملے سے متعلق درست معلومات کو حال ہی میں غلط قرار دینے کے میٹا کے فیصلے نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے حقائق جانچنے کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جون 2026 کے وسط میں روس کے میزائل اور ڈرون حملے کے دوران جب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیف-پیچرسک لاورا خانقاہ کو نقصان پہنچا، تو سڈنی میں مقیم نتالیہ شکنیئیوا نے اس خبر کو اپنے فیس بک پیج پر شیئر کیا۔
تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں میٹا کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا، جس میں اس پوسٹ کو میٹا کے تھرڈ پارٹی فیکٹ چیکنگ پارٹنر کے مطابق غلط معلومات قرار دیا گیا۔
ایسا صرف ان کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ آسٹریلیا میں مقیم یوکرینی برادری کے دیگر افراد، یوکرین میں موجود فیس بک صارفین، اور یہاں تک کہ بعض یوکرینی میڈیا اداروں کی پوسٹس کو بھی اسی طرح غلط قرار دیا گیا۔
فیس بک نے کہا کہ میری پوسٹ کو جھوٹی معلومات قرار دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں میری تمام پوسٹس لوگوں کی نیوز فیڈ میں کم دکھائی جائیں گی۔نتالیہ شکنیئیوا، سڈنی میں یوکرینی کمیونٹی کی رکن
نتالیہ نے فیس بک کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
تاہم انہوں نے جو معلومات شیئر کی تھیں، وہ درست اور حقائق پر مبنی تھیں۔
ایس بی ایس ایگزامنز نے ان پوسٹس کا جائزہ لیا جن پر غلط معلومات کا لیبل لگایا گیا تھا، اور پایا کہ میٹا کے نظام نے فیکٹ چیکنگ کی درجہ بندی غلط طور پر لاگو کی، جس کے نتیجے میں درست معلومات پر مشتمل پوسٹس کو بھی جھوٹا قرار دے دیا گیا۔
جب ایس بی ایس ایگزامنز نے اس غلطی کے بارے میں میٹا سے رابطہ کیا تو کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن ایک "تکنیکی خرابی" کا نتیجہ تھے۔ بعد ازاں غلط فیکٹ چیکنگ لیبلز ہٹا دیے گئے۔
میٹا نے اس غلطی سے متاثر ہونے والے افراد سے معذرت کی اور کہا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی غلطیوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس ہفتے کے ایس بی ایس ایگزامنز میں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مواد کی حقائق جانچ کیسے کرتے ہیں، اور کیا وہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے واقعی کافی اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایس بی ایس یوکرینین کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔




