آسٹریلیا اپنی زمین پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد، بین الاقوامی تنازعات کے اثرات، بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور یہود دشمنی، اور مہنگائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
ہماری اپنے معاشرے سے وابستگی کا احساس کم ہو گیا ہے – 2020 کے اوائل میں یہ 64 فیصد تھا جو سال 2025 میں گھٹ کر 46 فیصد ہو گیا، جیسا کہ اسکینلون فاؤنڈیشن کی میپنگ سوشل کوہیژن رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
ایس بی ایس کے خصوصی فورم میں، مہمانوں نے میزبان جنیس پیٹرسن کو بتایا کہ ہماری معاشرتی بناوٹ دباؤ کا شکار ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔
کرسٹی پارکر، جو ریکنسیلیئیشن آسٹریلیا کی شریک چیئر ہیں، نے کہا: "مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو بُرا ہونے کا جواز دے دیا گیا ہے۔"
مس پارکر نے 2023 میں دی وائس مہم کے دوران "سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تبصرے" کی بات کی جب وہ ’’یس مہم‘‘ پر کام کر رہی تھیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر چیک میڈیا کمپنی حنّہ فرگوسن نے کہا کہ سوشل میڈیا سماجی اختلاف بڑھانے والا بڑا عنصر ہے۔
سوشل میڈیا ایک دو رخی جگہ ہے۔ یہ مخصوص حلقے کو فروغ دیتاہے اور ہم خیال لوگوں کا ماحول بناتا ہے۔حنّہ فرگوسن
جبکہ ایڈم کریٹن، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک افیئرز کے چیف اکنامسٹ، نے کہا کہ بہت سے لوگ مہنگائی کے دباؤ اور رہائش کے بحران کا ذمہ دار امیگریشن پر عائد ہوتے ہیں۔
"کوئی تعجب نہیں کہ لوگ غصے میں ہیں،" انہوں نے کہا۔
نسلی امتیاز کے کمشنر گردھرن سوارامن نے کہا کہ معاشی عدم مساوات اکثر نسل پرستی کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے جینس کو بتایا، "کمیونٹیز یا افراد کو الزام دینا زیادہ آسان ہے، بجائے اس کے کہ واقعی نظامی تبدیلی کا سخت کام کیا جائے۔"
ایس بی ایس ایگزامنز کی اس قسط میں، ہم نے آسٹریلیا میں سماجی ہم آہنگی پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا جائزہ لیا ہے۔
Stream free On Demand
The Social Schism





