آسٹریلیا کے مرکوز میڈیا منظرنامے اور ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کے عروج نے ایک پیچیدہ درجہ بندی پیدا کی ہے، جو ہماری آن لائن موصول ہونے والی معلومات کی نوعیت کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ معاشرے کو بدل رہی ہے اور ہماری امید کے جذبے کو منفی طور پر متاثر کر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کے ڈیجیٹل میڈیا، جیسے کہ انسٹاگرام اور فیس بک، نے میڈیا تنظیموں کے لیے کلکس اور انگیجمنٹ کو بڑھانے کے لئے سرخیوں اور کہانیوں کو سنسنی خیز بنانے کی ترغیب میں اضافہ کیا ہے۔
یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے اسکول آف سائیکالوجی سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر مائیکل نوٹل نے ایس بی ایس ایگزامینز کو بتایا کہ یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو "سیکھی ہوئی بے بسی" کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ دیکھتے ہوئے کہ ہم [جنگ اور تنازعہ] کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، تو ہمیں لگتا ہے اپ ٹو ڈیٹ رہنا ہمارے لئے کچھ کرنے کے برابر ہے۔‘‘
ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ انسانیت کو درپیش کچھ مسائل ہمارے لیے بہت بڑے ہیں جن کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ اور اس کا مطلب ہے کہ ہم عمل نہیں کرتے۔ میرے خیال میں یہ ایک حقیقی المیہ ہے۔
" ایسوسی ایٹ پروفیسر نوٹل نے مزید کہا کہ "آپ اس طرح محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے، جبکہ (حقیقت میں) آپ کوئی قدم تو اٹھا سکتے ہیں ۔"
ایس بی ایس ایگزامینز اس قسط میں سوال ہے کہ بڑے میڈیا اور بڑے ٹیک ادارے ان خبروں کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں جو روزانہ آسٹریلین وصول کر رہے ہیں؟ اور یہ ہمارے دنیا کو دیکھنے کے انداز کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟





