پیرس اولمپکس میں پاکستان کے ایتھلیٹ ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی ارشد ندیم نے اولمپکس میں 40 سال بعد گولڈ میڈل جیت کر جمود توڑ دیا ہے ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں پاکستان کو یہ گولڈ میڈل جتوایا ۔ پیرس اولمپکس میں مینز جیولین تھرو ایونٹ کے فائنل میں ارشد ندیم نے92.97 میٹر کی تھرو کرکے اولمپک ریکارڈ بناتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔
روایتی حریف بھارت کے نیرج چوپڑا نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور میڈل جیتا ۔ ارشد ندیم پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے تاریخ میں پہلا انفرادی گولڈ میڈل حاصل کیا ہے اس سے قبل پاکستان ہاکی ٹیم نے 1984 میں گولڈ اور 1992 میں سلور میڈل جیتا تھا ۔ اولمپکس مقابلوں کی تاریخ میں پاکستان اب تک گیارہ میڈل جیت چکا ہے جن میں چار گولڈ ، تین سلور اور چار برونز شامل ہیں

اولمپئین رشید الحسن نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا دن ہے پاکستان نے چالیس سال بعد اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے یہ گولڈ میڈل انفرادی حیثیت میں جیتا گیا ہے اس کی تو بات ہی الگ ہے ارشد ندیم نے اولمپکس کی ہسٹری میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کیا ہے ارشد ندیم کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے، اولمپئن ہونے کے ناطے میں ارشد ندیم کی کامیابی پر بہت خوش ہوں. کھیلوں سے ملک کا نام روشن ہوتا ہے اور دنیا میں پازیٹو امیج جاتا ہے. ارشد ندیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم لہرایا۔
ادھر پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ وجاہت حسین نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر پوری قوم کو مبارکباد دی ہے

بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی کے باعث بنگلہ دیش اے کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کی اے کرکٹ ٹیم اب دس اگست کو پاکستان پہنچے گی جہاں دو چار روزہ اور تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی تمام میچز اسلام آباد کلب میں کھیلے جائیں گے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کی ٹیم نے سات اگست کو پاکستان آنا تھا سیریز کی تیاریوں کے لیے پاکستان شاہینز کا تربیتی کیمپ اسلام آباد میں جاری ہے پاکستان شاہینز کے وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد نے کہا کہ اسلام آباد کا موسم ہمیشہ سے اچھا ہوتا ہے ہماری تیاری بھی اچھی ہو جائے گی. یہ بہت اچھی بات ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان شاہینز کے کھلاڑیوں کو پرفارمنس دکھانے پر نیشنل ٹیم میں جگہ مل رہی ہے۔

ادھر فاسٹ بولر نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ تیرہ ماہ سے ریڈ بال کرکٹ نہیں کھیلا ایک لمبے عرصے کے بعد کھیلنا آسان نہیں ہوتا ہے انجری کے بعد بولنگ کے اسپیل لوڈ کو آہستہ آہستہ بڑھا رہاہوں غیرملکی کوچ کے ساتھ زبان کا مسئلہ ہوتاہے بطور پروفیشنل اپنی فٹنس کا خیال رکھنا پڑتاہے، زبردستی کسی کی فٹنس اچھی نہیں کی جاسکتی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وقار یونس کی ایک بار پھر کرکٹ بورڈ میں انٹری ہوگئی ہے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کرکٹ کی بہتری کے معاملات وقار یونس کو سونپ دیے ہیں وقار یونس نے چیئرمین محسن نقوی کے ایڈوائزر کے طور پر بورڈ میں کام شروع کر دیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وقار یونس کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا شکریہ کہ انھوں نے میرے اوپر اعتماد ظاہر کیا، کرکٹ کے حالات سب کے سامنے ہیں ہمیں اپنے کھیلنے کا طریقہ ٹھیک کرنا پڑے گا، یہ بہت اچھا کانسیپٹ ہے کہ بڑے کھلاڑیوں اور لیجنڈز کو اس کام میں شامل کیا جائے اور ان کو ہی ذمہ داریاں دی جائیں کیونکہ کرکٹرز نے کرکٹ نا سنبھالی تو کرکٹ اور نیچے چلی جائے گی اور میری کرکٹ لیجنڈز سے بات بھی چل رہی ہے، شروع ٹی ٹونٹی کرکٹ سے کریں گے پھر ون ڈے کرکٹ اور فور، فائیو ڈے کرکٹ پر جائیں گے۔
(رپورٹ: انس سعید)



