پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جہاں آوارہ بلیوں کی بہتات ہے، ان بلیوں کے ساتھ حادثات بھی پیش آتے ہیں اور یہ بیمار بھی پڑ جاتی ہیں، گلیوں ، چوک چوراہوں اور سٹرکوں پر گھومنے والی ایسی ہی بلیوں کی جان بچانے کا عزم رکھنے والے دو افراد ڈاکٹر مسرور پیرزادہ اور محمد جمیل ہیں جنھوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہزاروں ’سٹرے کیٹس‘ کو نہ صرف ریسکیو کیا بلکہ اُن کو اپنے شیلٹر ہوم میں لے گئے، اِن بلیوں کو دوا اور خوراک فراہم کی اور جب وہ صحت مند ہوگئیں تو انھیں واپس گلیوں میں چھوڑ دیا اور یہ مشن یوں ہی جاری ہے۔
ڈاکٹر مسرور پیرزادہ اور محمد جمیل نے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں بلیوں کا شیلٹر ہوم قائم کر رکھا ہے جہاں بڑی تعداد میں شہر بھر سے لائی گئی بلیاں موجود ہیں اس شیلٹر ہوم میں لائی گئی بلیوں میں سے کسی بلی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے، کسی کی آنکھ ضائع ہے تو کئی بلیاں لمبے عرصے سے کسی بیماری میں مبتلا تھیں، ان تمام بلیوں کو ڈاکٹر مسرور پیرزادہ ان کی بیماری یا زخم کے مطابق علاج فراہم کر رہے ہیں۔

ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہنس مکھ ڈاکٹر مسرور پیرزادہ بتاتے ہیں کہ شہر میں رہنے والوں کو گلیوں میں گھومتی بلیاں تو نظر آتی ہیں لیکن وہ بیمار ہوں یا کسی حادثے کے باعث زخمی ہو جائیں، عام افراد اِن بلیوں کو دیکھ کر ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن کوئی مدد فراہم نہیں کرتا، بطور ویٹرنری ڈاکٹرمجھ سے یہ دیکھا نہیں جاتا اور پھر یوں وہ بلی ہمارے شیلٹر ہوم کا حصہ بن جاتی ہے
ڈاکٹر مسرور پیرزادہ کہتے ہیں شیلٹر کی گئی ان بلیوں کا سب سے پہلے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، اگر کسی بلی کا ایکسرے یا پھر الٹرا ساؤنڈ کرنا ضروری ہوتو وہ سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، بیماری یا زخم کی تشخیص کے بعد بلی کو بہترین علاج فراہم کیا جاتا ہے جبکہ بلیوں کی رہائش اور خوراک کا بھی خاص انتظام ہمارے پاس موجود ہے
ویٹرنری ڈاکٹر مسرور پیرزادہ کے مطابق اگر کوئی بلی کسی روڈ حادثے میں زخمی ہوتی ہے تو اُسے ہم فورا ریسکیو کر کے اپنے پاس لے آتے ہیں، بلیوں کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں تاہم کچھ بلیوں کے بھی زخم ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ صحت مند ہونے والی بلیوں کو واپس ان کی جگہوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے تاہم تاحیات اس معذوری سے گزرنے والی بلیوں کو شیلٹر ہوم میں ہی رکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مسرور پیرزادہ کہتے ہیں کچھ بلیوں میں بھی ڈیفیکلٹ برتھ کے مسائل ہوتے ہیں، ڈاکٹر پیرزادہ کے مطابق کچھ بلیاں نارمل ڈلیوری نہیں ک سکتیں تو اسی شیلٹر ہوم میں ان کا آپریشن کر کے بچوں اورماں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مسرور پیرزادہ کہتے ہیں یہ بلیاں بھی اللہ کی مخلوق ہیں، ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ انسان اشرف المخلوقات اُس وقت بن سکتا ہے جب ہم باقی مخلوقات کا بھی خیال رکھیں، گرم موسم کے حوالے سے ڈاکٹر مسرور پیرزادہ نے مشورہ دیا کہ بلیاں بھی ڈی ہائیڈرڈ ہو سکتی ہیں، انسانوں کی طرح انھیں بھی گرمی کی شدت محسوس ہوتی ہے، شہریوں سے گزراش ہے کہ وہ جس طرح اِس گرم موسم میں اپنے لیے ٹھنڈی جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ویسے ہی اِن بے زبان جانوروں کیلیے بھی کریں۔

حریرہ اینیمل شیلٹر کے روحِ رواں محمد جمیل سال 2008 سے آوارہ بلیوں کو ریسکیو کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں یہ سلسلہ ایک بلی کے بچے سے شروع ہوا اور آج ہم لاتعداد بلیوں کو ریسکیو کر چکے ہیں،محمد جمیل کے مطابق پالتو بلیوں کیلیے بھی ان کے سینٹرز پر علاج کی سہولت میسر ہے، اگر پالتو بلی کا مالک علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تو اسے بلڈ ٹیسٹ، ایکسرے اور ڈاکٹرز کا مشورہ مفت میں فراہم کر دیتے ہیں۔
محمد جمیل کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بھی زخمی یا پھر بیمار بلیوں کو ریسکیو کرنے کیلیے اپنے سینٹرز کھول رہے ہیں، خواہش ہے چھوٹے شہروں میں بھی اس طرح کے سینٹرز بنائیں تاکہ اِن شہروں میں لاوارث جانوروں کا فری علاج ممکن ہو سکے۔
(رپورٹ: احسان خان)



