نئے سال کا آغاز بہت سے لوگوں کے لئے نئی امیدیں اور نئے جذبے لے کر آتا ہے لیکن بچوں اور نو عمر افراد کا معاملہ مزید مختلف ہے ان کی امنگیں انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ہر سال ایک نیا ہدف مقرر کرنا صرف بڑوں کو ہی نہیں بلکہ بچوں کو بھی ایک راہ متعین کرنے میں مدد کرتا ہے، محمد شہیر عدیل جو گیارہ سال کے ہیں کہتے ہیں کہ گذشتہ سال انہوں نے اپنی کرکٹ کو بہتر کرنے کا گزارا اور ایوارڈز نے ان کا حوصلہ بڑھایا تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال ان کی کوشش ہوگی کہ وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وہ ٹائم منجمنٹ پر توجہ دیں ۔
آسٹریلین ڈیفینس کیڈٹ عنایہ کہتی ہیں وہ نئے سال کی ریزولوشن طے کرتی ہیں اور ان کا اس سال اپنی تعلیم پر بھرہور توجہ دینے کا ارادہ ہے۔
____






