لیاری، جو کبھی گینگسٹر کی لڑائیوں کے باعث دنیا بھر کی خبروں کی ذینت بنا ہوا تھا، اب اس کی شکل تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، وہ لیاری جہاں گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں آج وہاں موسیقی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، وہ لیاری جس میں کبھی گینگ وار کی آپسی لڑائیوں کی وجہ سے معمولات زندگی چلانا تقریبا نامکمن دکھائی دینے لگا تھا اب وہاں امن و محبت اور معاشی مسائل کے حل پر بحث ومباحثے ہو رہے ہیں۔
اس بدلتے لیاری کو ایک منفرد انداز میں لیاری فلم فیسٹیول کے زریعے دنیا بھر کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں لیاری کی تنگ گلیاں، فٹبال سے جنون کی حد تک محبت، روزہ مرہ کی زندگی سمیت اس کے باسیوں کے دیگر پہلوؤں کو کہیں پینٹنگز، تو کہیں تھیٹر کے زریعے لوگوں کو سامنے لایا گیا،بینظیر یونیورسٹی لیاری میں ہونے والے اس فلم فیسٹیول میں لیاری سے ہی تعلق رکھنے والے آرٹسٹس، فلم میکرز، میوزیشن اور کانٹینٹ کریٹرز کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے ٹیلنٹ کے زریعے اپنی کمیونٹی اور علاقے کے بنیادی مسائل کو ہائی لائٹ کر سکیں۔

لیاری فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر محمد فہیم کہتے ہیں لیاری کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، ہمارے نوجوانوں کو مرکزی سطح پر بہت کم مواقعے دستیاب ہوتے ہیں، نوجوانوں کو صلاحیتی دکھانے کیلیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے، محمد فہیم کے مطابق فلم ، آرٹ ، اور میوزک کے زریعے لیاری کے ایشوز بالخصوص اس علاقے میں رہائش پذیر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔

اس خوبصورت میلے میں حصہ لینے والی ایک طالبہ انیلا کے مطابق اس طرح کے پروگرامز منی برازیل کہلائے جانے والے لیاری کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، فلم فیسٹیول میں لیاری میں گزرنے والی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بہترین انداز میں سامنے لایا گیا جس دیکھنے والے بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔
آگے بڑھیں اور آپ کو ملاقات کرواتے ہیں ایک ایسی نڈر لڑکی سے جس کی عمر تو کم ہے لیکن کارنامے بڑے بڑے ہیں، خطرات سے ٹکرانے والی یہ لڑکی کسی بھی مشکل سے گھبراتی نہیں بلکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، ہم بات کررہے ہیں آف روڈ ریسنگ میں اُبھرتے ہوئے نام دینا پٹیل کی، جنھوں نے کم عمری میں ہی آف روڈ ریسنگ کی دنیا میں بڑے اعزاز اپنے نام کر لیے ہیں، دینا پٹیل ہی نہیں بلکہ ان کے والدین رونی پٹیل اور ٹشنا پٹیل بھی پاکستان بھر میں آف روڈ ریسنگ میں متعدد بار کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں جبکہ دنیا پٹیل اب اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں۔

دینا پٹیل پاکستان بھر میں ہونے والی آف روڈ ریسنگ کے مقابلوں میں شرکت کرتی ہیں، دینا پٹیل حب ریلی میں مسلسل دوسال سے فاتح بن رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ تھر ریس کی بھی فاتح ہیں اس کے علاوہ بھی دینا پٹیل پاکستان بھر میں ہونے والے متعدد مقابلوں میں کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔
حالیہ کامیابی کے بعد ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے دینا پٹیل کہتی ہیں کامیابی حاصل کرنا لفظوں میں شاہد آسان لگے لیکن اس کے پیچھے کئی کئی ماہ کی محنت موجود ہوتی ہے، دینا پٹیل کے مطابق انھوں نے آف روڈ ریسنگ کے بارے میں بچپن سے ہی والدین سے سیکھنا شروع کردیا تھا، آف روڈ ریسنگ کے مقابلوں میں گاڑی کیسی دوڑانی ہیں ؟ رفتار کتنی رکھنی ہے اور گاڑی کا توازن کیسے برقرار رکھنا ہے ؟ یہ سب انھیں والدین نے ہی بہترین انداز میں سیکھایا ہے تاہم ریس کے دوران والد یا والدہ جب بھی بطور نیویگیٹر ساتھ موجود ہوتے ہیں توگاڑی ڈرائیو کرنا آسان نہیں ہوتا۔

20 سالہ آف روڈ ریسر دینا پٹیل کے مطابق اس کھیل میں آنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں، گاڑی کی اسپیڈ کئی بار 150 سے 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا ہے، ان خطرات کو کم کیلیے بہترین ٹریننگ، ٹریکس کی ریکی اور مہارت کا ہونا انہتائی ضروری ہے،دینا پٹیل کے مطابق چولستان ہو، جھل مگسی ، گوادر یا پھر تھر کے صحرا ، آف روڈ ٹریکس یقینا آسان نہیں ہوتے لیکن بلوچستان کے علاقے حب کا ٹریک ایک مشکل ترین ٹریک ہے جہاں ڈرائیور کو رفتار کے ساتھ ساتھ گاڑی کا توازن بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے ۔
آف روڈ ریسر دینا پٹیل کہتی ہیں یہ ایک مہنگا شوق ہے، اس کھیل میں پیسہ بہت اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کی تعداد اس کھیل میں آرہی ہے،خواتین کی اس کھیل میں شرکت کو بڑھانے کیلیے گھر پر موجود مردوں کوبھی اپنا تعاون بڑھانا ہوگا۔
رپورٹ:احسان خان




