ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEDT
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

پاکستانی نژاد آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹرمنیرہ بانو کی آسٹریلیا میں پزیرائی

دکتر منیره بانو

سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر منیرہ بانو کو حال ہی میں "فورٹی انڈر فورٹی موسٹ اِنفلوئینشل ایشئین آسٹریلین " کا ایوارڈ ملا ہے۔

کمپیوٹر کی دنیا سے منسلک ڈاکٹر منیرہ بانو میلبورن کی سوانبرن یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں اور طلبا کو سافٹ وئیر انجینئیرنگ پڑھاتی ہیں۔

سانئس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی خدمات کے پیشِ نظر انہیں آسٹریلیا میں ایک اہم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر منیرہ کا کہنا ہے کہ ایوارڈ کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ محنت کریں تو آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔

"انسانی عقل میں تخلیقی صلاحیت کی بہت گنجائش ہے۔ ہر شعبے کا مستقبل ٹیکنالوجی سے جڑا ہے۔

"انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر اب کوئی شعبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔  ارٹیفیشل انٹیلیجنس ہر جگہ ہے۔ مستقبل میں کام کرنے کے سارے مواقع اب اسی سمت میں جارہے ہیں۔"

Dr Muneera Bano
Dr Muneera Bano


 

فورٹی انڈر فورٹی ایشئین آسٹریلین ایوارڈ کیا ہے؟

یونیورسٹی آف میلبورن، پرائیس واٹر کوُپر اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک فورم تشکیل دیا گیا ہے جس کے ذریعے عوام میں ثقافتی تنوع یا کلچرل ڈائیورسٹی کی اہمیت پر ذور دیا گیا ہے۔

ایشئین آسٹریلین لیڈرشپ سمٹ نے حال  ہی میں "فورٹی انڈر فورٹی ۔ موسٹ انفلوینشل ایشئین آسٹریلین ایوارڈز" کا انعقاد کیا۔

سال دو ہزار انیس کا ایوارڈ ڈاکٹر منیرہ بانو کو ملا ہے۔


 

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیدا ہونے والی اور چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ڈاکٹر منیرہ بانو کا کہنا ہے کہ معاشرے میں دباؤ کے باوجود اور گھر والوں کی محبت کے باعث وہ اس مقام تک پہنچ پائی ہیں۔

 "پاکستان بالخصوص پشتون گھرانوں میں اکثرخواتین کوتعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملتے اور میری والدہ بھی اسی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرسکی تھیں۔لیکن چونکہ میری پیدائش اسلام آباد میں ہوئی تھی، اس لئے میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔" 

پاکستان میں ہر شخص یہی کہتا ہے کہ لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتیں لیکن مجھے یقین تھا کہ مجھے پڑھنا پسند ہے، میں کچھ کرسکتی ہوں اور مجھے کچھ کرنا چاہیئے۔

"میرے والدین نے بھی موقع دیا کہ جہاں تک میرا شوق ہو، میں تعلیم حاصل کروں۔" 

ڈاکٹر منیرہ نے کمپیوٹر سانئس میں پاکستان سے بیچلر اور ماسٹرز کیا ہے جبکہ پی ایچ ڈی کی ڈگری انہیں آسٹریلیا سے ملی۔

"مجھے آسٹریلیا میں پی ایچ ڈی کی اسکالرشپ ملی جو میرے لئے ایک خواب تھا۔"

لیکن ڈاکٹر منیرہ کا کہنا ہے کہ شروعات میں آسٹریلیا کا سفر آسان نہ تھا۔

"جب میں آسٹریلیا آئی تو میرے ساتھ کوئی گھر یا خاندان سے تعلق رکھنے والا نہیں تھا۔  میرے بھائی ابتدا میں تقریباً ایک ہفتہ رہے، پھر وہ چلے گئے۔

"پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لئے یہاں پر اکیلے رہنا ایک بڑا مسئلہ لگتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر والوں کی یاد (ہوم سکنس) اورکلچر شاک بھی ہوتا ہے ۔

"پہلے تو کوئی دوست نہیں تھے لیکن  آسٹریلیا میں کافی بڑی تعداد بین القوامی طلبا کی ہوتی ہے جن میں سے آپ اپنے جیسے لوگوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔

 "ہم سب ایک ہی کشتے کے سوار تھے اس لئے مشکلات جلد آسان ہوگئیں۔"

Dr Muneera Bano
Dr Muneera Bano
Supplied

ڈاکٹر منیرہ بانو کا کہنا ہے آسٹریلیا اور دنیا بھر میں اسٹیم  ( سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئیرنگ، میتھس یا ریاضی) شعبوں کو بہت پزیرآئی مل رہی ہے۔

"آسٹریلیا میں شروعات ہی سے بچوں کو عموماً  ریاضی (میتھس) یا سائنس اچھے نہیں لگتے تو اب حکومت نہ صرف تمام بچوں کو بلکہ خاص طور پر لڑکیوں کو اسٹیم کے شعبوں کی طرف راغب کررہی ہے۔"

موجودہ سال ڈاکٹر منیرہ بانو کو آسٹریلیا میں پچھتّر ہزار سے زائد سائنسدانوں پر مشتمل تنظیم "سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آسٹریلیا" کی جانب سے سپراسٹار آف اسٹَیم کا خطاب بھی ملا ہے۔

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
پاکستانی نژاد آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹرمنیرہ بانو کی آسٹریلیا میں پزیرائی 25/09/2019 08:01 ...
"آسٹریلین شہریت ملنے سے زندگی آسان ہو جائے گی" 25/01/2020 10:30 ...
اردو خبریں ۲۳ جنوری ۲۰۲۰ 22/01/2020 15:07 ...
ایس بی ایس اردو خبریں ۲۰ جنوری ۲۰۲۰ 19/01/2020 12:22 ...
آسٹریلیا ڈے کے موقع پر آسٹریلیا کو اپنا گھر بنانے والے کیا کہتے ہیں؟ 19/01/2020 12:26 ...
ایس بی ایس اردو خبریں سولہ جنوری ۲۰۲۰ 15/01/2020 10:59 ...
بائک پر ۱۴ ہزار کلومیٹر کا سفر- کیا آپ نے ایسا سوچا ہے؟ 14/01/2020 11:25 ...
ایس بی ایس اردو تیرہ جنوری ۲۰۲۰ 12/01/2020 11:58 ...
ایس بی ایس اردو خبریں نو جنوری ۲۰۲۰ 09/01/2020 08:49 ...
کیا مرد اپنی دماغی صحت کو نظر انداز کرتے ہیں؟ 08/01/2020 06:18 ...
View More