رمضان کے دوران بڑوں کی دیکھا دیکھی بچوں میں بھی روزہ رکھنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ، کہیں بچے مکمل روزہ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو کہیں والدین انہیں ’’چڑی روزہ‘‘ کے نام پر نصف دن کے بعد کھانے پینے پر رضا مند کر لیتے ہیں ۔
ایسی ہی ایک کوشش میلبرن کے رہائشی ذوحان نے بھی کی ، جن کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے بہت خوشی سے روزے کی تکمیل کی اور تمام اہل خانہ سے دعائیں بھی سمیٹیں
لیکن اس صورتحال میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پورا دن کھانے اور پانی سے اجتناب کی صورت میں بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال کیسے رکھا جائے؟
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر غذائیات ردا طاہر کا کہنا ہے کہ بچوں کو سحور اور افطار کے دوران پروٹین سے بھر پور غذا دی جائے۔
ردا کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کمپلیکس کاربز کے ساتھ ایسی خوراک کا انتخاب کیا جائے جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو۔
جبکہ پانی کی کمی دور کرنے کے لئے ایسے مشروبات بچوں کو دیئے جائیں جن میں چینی نہ ہو ، اور ایسے پھل فراہم کریں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔






