دوران حمل NIPT ٹیسٹ ، ایک ایسی جانچ ہے جسے حکومتی سبسڈی حاصل نہیں ہے، تاہم یہ ٹیسٹ کئی پیچیدگیوں اور داون سنڈروم سمیت کچھ ایب نارمیلیٹز کی ابتدائی تشخیص میں معاون ہے ڈاکٹر ماہ نور کہتی ہیں کہ اگر ممکن ہو تو یہ ٹیسٹ کروانا بہت بہتر ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور گذشتہ دس سال سے طب کے شعبے سے وابستہ ہیں اور آسٹریلیا میں بطور جنرل پریکٹیشنر (جی پی) خدمات انجام دے رہی ہیں ایس بی ایس سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’نپٹ ٹیسٹ‘‘ سے کی گئی جانچ اگرچہ بہت درست نتائج دیتی ہے لیکن یہ سو فیصد درست نہیں ہے
ڈاکٹر ماہ نور کا کہنا ہے کہ ڈاکترز کو چاہئے کہ وہ توقع والدین کو یہ ٹیسٹ کروانے کا آپشن ضرور دیں کیونکہ اگرچہ اس ٹیسٹ کے لئے حکومتی سبسڈی فراہم نہیں کی جاتی لیکن یہ آنے والے نومولود کے لئے انتہائی اہم ہے کسی بھی مرض کی تشخیص ابتدائی طور پر ہی ہو جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ٹیسٹ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ بچے کی جنس جلد معلوم ہو جاتی ہے انہوں نے بتایا اگرچہ اس تشخیص کے بعد اب تک ڈاون سنڈروم سمیت اس ٹیسٹ سے ظاہر ہونے والی جینٹیکل ڈس آرڈرز کا علاج پیدائش سے پہلے ممکن نہیں ہوا ہے لیکن یہ والدین کو ذہنی طور پر تیار رہنے میں مدد دیتا ہے۔





