SKIP TO MAIN CONTENT

ورزش یا واک جیسی سرگرمیاں تارکینِ وطن خواتین کی ترجیح کیوں نہیں ہوتی؟

Although older women are not naturally prone to exercise, being part of an exercise group helps them to stay in a fitness program.(AAP)
Although older women are not naturally prone to exercise, being part of an exercise group helps them to stay in a fitness program. (AAP)

ماہرین کہتے ہیں کہ اکثر تارکین وطن خواتین خاندانی ذمہ داریوں، سماجی تصورات اور اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈالنے کی عادت کی وجہ سے جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتی ہیں ماہرِ نفسیات شگفتہ عالم کے مطابق جنوبی ایشیائی اور تارکین وطن خواتین اکثر اپنی صحت کو ترجیح نہیں دیتیں جبکہ روزانہ 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی جسمانی صحت، ذہنی سکون اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ اپنا خیال رکھنا خودغرضی نہیں، صحت مند زندگی کی ضرورت ہے


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

By Rehan Alavi

ذریعہ: SBS



Skip to podcast episode content

ماہرین کہتے ہیں کہ اکثر تارکین وطن خواتین خاندانی ذمہ داریوں، سماجی تصورات اور اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈالنے کی عادت کی وجہ سے جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتی ہیں ماہرِ نفسیات شگفتہ عالم کے مطابق جنوبی ایشیائی اور تارکین وطن خواتین اکثر اپنی صحت کو ترجیح نہیں دیتیں جبکہ روزانہ 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی جسمانی صحت، ذہنی سکون اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ اپنا خیال رکھنا خودغرضی نہیں، صحت مند زندگی کی ضرورت ہے


ماہرِ نفسیات شگفتہ عالم کا کہنا ہے کہ ہماری ثقافت میں خواتین نے عموماً اپنے بڑوں کو ورزش یا باقاعدہ چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا، اسی لیے جسمانی سرگرمی کو اکثر ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے مطابق بہت سی خواتین اپنی تمام توانائیاں خاندان پر صرف کرتی ہیں جبکہ اپنی صحت اور فلاح و بہبود کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔

شگفتہ عالم کہتی ہیں کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ روزانہ صرف 15 سے 20 منٹ کی واک مزاج کو بہتر بنانے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور جسمانی توانائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق خواتین اگر اپنے دن کا ایک مختصر حصہ صرف اپنے لیے مختص کر لیں تو اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آ سکتے ہیں۔

شگفتہ عالم کے مطابق خواتین کو متحرک زندگی اختیار کرنے میں خاندان اور کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر گھر کے افراد مل کر چہل قدمی کو روزمرہ معمول بنائیں اور مقامی سطح پر واکنگ گروپس قائم کیے جائیں تو خواتین کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا زیادہ آسان اور پائیدار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جسمانی طور پر متحرک رہنا نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرتا ہے بلکہ بے چینی کی علامات میں کمی لانے اور کئی دائمی بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

۔NSW HEALTH - Multicultural Health Week (31 August – 6 September 2026)

___________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now