دوران حمل چاق و چوبند رہنے اور ذہنی و جسمانی صحت میں بہتری کے لئے ایکٹیو روٹین خاص اہمیت کا حامل ہے جبکہ ڈاکٹر کی اجازت اور مشورے کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش صحت مند حمل اور زچگی میں معاون ہو سکتا ہے ، دوران حمل ورزش کی اہمیت اور فوائد پر ڈاکٹر ماہ نور بخاری کی ایس بی ایس سے گفتگو سنئے اس پوڈکاسٹ میں
آستریلین شہر برسبین کی رہائشی ڈاکٹر ماہ نور بخاری ، جو گذشتہ دس سال سے طب کے شعبے سے وابست ہیں ،کا کہنا ہے کہ دوران حمل ورزش کرنا خواتین کو ذہنی اور جسمانی دونوں فوائد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا عمومی طور پر ہفتنے میں پانچ دن تک ورزش، غذائیت والے کھانے اور اچھی نیند ایک عام انسان کو بیماری سے بچانے میں معاون ہوتا ہے اور اگر حمل کی بات کریں تو صورتحال کافی مختلف ہوتی ہے وزن کا بڑھنا ، ہارمونل تبدیلیاں خواتین کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہونے والے عوامل ہیں لیکن اگر خواتین چہل قدمی یا یوگا جسی سرگرمیوں میں مصروف ہوں تو نہ صرف جسمانی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ذہنی طور پر پرسکون رہنے میں بھی مدد ملے گی۔
چہل قدمی یا ایسی ورزش جو جسم پر بوجھ یا دباو ڈالنے کے بجائے آسانی فراہم کرے ڈاکٹر ماہ نور کا کہنا ہے کہ یہ آپ کی زچگی میں بھی آسانی کا باعث ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور نے ساتھ ہی متنبہ کیا کہ ضروری ہے ورزش یا کوئی بھی سرگرمی اپنانے سے پہلے داکٹر سے مشورہ لیا جائے اور کسی ’’ہائی رسک‘‘ پریگنینسی میں ایکسرسائز جیسی سرگرمیاں ڈاکتر کے مشورے کے مطابق ہی کی جائیں
(یہ پوڈکاسٹ ایک عمومی موضوع کے اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے ، خاص ذاتی مشورے کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں )





