جسمانی ورزش کو عام طور پر صرف جسمانی تندرستی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق اس کا ذہنی صحت پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں، جہاں ذہنی صحت کے موضوع کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے شرم اور stigma سے جوڑ دیا جاتا ہے، ورزش اور ذہنی تندرستی کے درمیان تعلق کو سمجھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ایس بی ایس اردو نے ماہر نفسیات ڈاکٹر سید موسیٰ کاظم سے بات کی۔
ڈاکٹر موسیٰ کاظم کے مطابق جسمانی سرگرمی کے دوران دماغ میں Endorphins، Serotonin اور Dopamine جیسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جن کی کمی کو ڈپریشن اور اضطراب جیسی ذہنی کیفیات سے جوڑا جاتا ہے، اسی لیے ورزش کو ایک قدرتی اور بغیر مضر اثرات کے علاج کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں ذہنی صحت کے حوالے سے موجود taboos اور stigma کی وجہ سے لوگ ورزش کو ذہنی صحت کے ذریعے کے طور پر اپنانے سے گریز کرتے ہیں، اور اکثر اسے صرف روحانیت یا مذہبی رسومات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر موسیٰ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اجتماعی سرگرمیاں انفرادی ورزش کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں کیونکہ کمیونٹی کی collectivist نوعیت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق تارکین وطن، خاص طور پر نوجوان نسل، جو دو ثقافتوں کے درمیان دباؤ یعنی acculturative stress کا شکار ہوتی ہے، کے لیے جسمانی سرگرمی ایک اہم coping mechanism کے طور پر کام کر سکتی ہے۔





