سان ڈیاگو کی ایک مسجد پر منافرت پر مبنی جان لیوا حملے میں جاں بحق ہونے والے 3 افراد کو ان کی بہادری پرخراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے ۔ آسٹریلیا میں مسلم برادری کے خلاف اشتعال انگیز بیانات میں خطرناک حد تک اضافے کے پس منظر میں اسلاموفوبیا کے خلاف آسٹریلیا کے خصوصی ایلچی نے حکومت سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے ان کی پیش کردہ سفارشات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
تحقیقات کی سربراہی کرنے والے ایف بی آئی ایجنٹ مارک ریمیلی کا کہنا ہے کہ حملے کے ذمہ دار دونوں نوجوان انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے ملے تھے، جہاں وہ سفید فام برتری کے نظریات کا تبادلہ کرتے تھے۔ مسجد میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تینوں افراد کو برادری کے نہایت محترم اور ہر وقت دوسروں کی مدد کرنے والے افراد قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز کے سیکریٹری اسامہ جمال کا کہنا ہے کہ عوامی عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محتاط زبان استعمال کریں۔
دوسری جانب اسلاموفوبیا کے خلاف آسٹریلیا کے خصوصی ایلچی آفتاب ملک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم برادری کے خلاف اشتعال انگیز زبان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس قسم کی گفتگو کے حقیقی زندگی میں خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے اپنی سفارشات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔





