ایس بی ایس اردو

آسٹریلوی سیاستدان اسقاط حمل کے حقوق کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں؟

ایس بی ایس اردو

Thousands of protesters are seen during a rally in support of abortion rights at Sydney Town Hall in Sydney, Saturday, July 2, 2022. (AAP Image/Dean Lewins) NO ARCHIVING

Thousands of protesters are seen during a rally in support of abortion rights at Sydney Town Hall in Sydney, Saturday, July 2, 2022. Source: AAP

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے


تاریخِ اشاعت 3/07/2022 11:59am بجے
تخلیق کار Danielle Robertson, Julien Oeuillet, Marcus Megalokonomos
پیش کار Nida Tahseen
ذریعہ: SBS

آسٹریلیا میں ریاستی اور علاقائی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق خواتین کیلیے محفوظ ہیں، لیکن ویسٹرن آسٹریلیا واحد ریاست ہے جہاں ابھی بھی ضابطہ فوجداری کے ذریعے خواتین اپنے اس حق سے محروم ہیں۔


تاریخِ اشاعت 3/07/2022 11:59am بجے
تخلیق کار Danielle Robertson, Julien Oeuillet, Marcus Megalokonomos
پیش کار Nida Tahseen
ذریعہ: SBS


ہفتہ کی شب ملک بھر میں ہزاروں آسٹریلینز نے اسقاط حمل کے حقوق کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔ ان ریلیوں کا انعقاد امریکہ میں رو ورسز ویڈ کی قانونی حیثیت کو ختم کردیے جانے کے خلاف کیا گیا۔

ان مظاہروں کا مقصد امریکی خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار  تو تھا ہی مگر ساتھ ساتھ آسٹریلیا میں حمل ختم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا بھی تھا۔

یہ احتجاج ملک کے بڑے شہروں میں کیے گئے جن میں پرتھ، ہوبارٹ، کینبرا، میلبورن اور سڈنی کے علاوہ ایڈیلیڈ شامل ہیں۔

Advertisement
پروفیسر کرسٹن بلیک کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں اسقاط حمل کی رسائی کو بہتر دیکھنا چاہتی ہیں، کیونکہ پورے ملک میں اسقاط حمل ایک قانونی عمل ہے مگر اس تک رسائی حاصل کرنے کیلیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جہاں ملک بھر میں اسقاط حمل کے حق کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں وہیں اسقاط حمل کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ۔ 

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اسقاط حمل پر پابندی کی حمایت میں کتنی ریلیاں نکلیں البتہ جنوبی آسٹریلیا کے لبرل ایم پی ڈیوڈ سپیئرز کا کہنا ہے کہ ایڈیلیڈ میں ہونے والی ایسی ہی ایک تقریب کے منتظمین کو پرتشدد دھمکیاں ملنے کے بعد آخری لمحات میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

عوام کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی سیاستدانوں نے بھی رو ورسز ویڈ کیس کے فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 

ڈپٹی لبرل لیڈر سوسن لی کے مطابق امریکہ میں عورت کے اسقاط حمل کے حق کو ختم کرنا ملک کے لیے ایک پسماندہ قدم ہے -

اسکائی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، محترمہ لی کہتی ہیں کہ ان مسائل پر حساسیت اور احترام کے ساتھ بات کرنی چاہیئے۔ 

انہوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن سے بھی اتفاق کیا کہ اسقاط حمل کو "محفوظ، قانونی اور نایاب" ہونا چاہیئے۔ 

وفاقی حکومت کے فرنٹ بینچر جیسن کلیئر کا کہنا ہے کہ وہ اس غصے، مایوسی اور غم کو شیئر کرتے ہیں جس کا سامنا لوگ امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک میں کر رہے ہیں۔ 

آنے والی وکٹورین وزیر صحت میری-این تھامس کا کہنا ہے کہ ریجنل علاقوں میں صحت کی خدمات بشمول بچہ پیدا کرنے کے حقوق تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ان کے نئے رول کی ترجیح ہے۔  

وکٹوریہ نے 2016 میں اسقاط حمل مخالف مظاہرین کے لیے صحت اور فرٹیلیٹی کلینک کے 150 میٹر کے دائرے کے اندر آنا غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ 

ریاست کے پریمیئر ڈینیئل اینڈریوز کا کہنا ہے کہ خواتین اس قابل ہیں کہ وہ ایسے خطرناک حالات میں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں۔

 قانونی اور پراڈکٹو حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کی رسائی میں اہم رکاوٹیں باقی ہیں اور آگے بڑھتے ہوئے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ 

ہیومن رائٹس لا سینٹر کے ایسوسی ایٹ قانونی ڈائریکٹر ایڈریان والٹرز نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا کہ یہ ضروری ہے کہ آسٹریلیا اس بات کو یقینی بنائے کہ لوگ خواتین کے حقوق کو پامال نہ کریں۔ 

یاد رہے کہ ویسٹرن آسٹریلیا واحد ایسی آسٹریلوی ریاست ہے جہاں اسقاط حمل ایک جرم ہے۔ جبکہ پچھلے سال، جنوبی آسٹریلیا دوسری آخری ریاست بن گئی تھی جس نے اسقاط حمل کو فوجداری قانون سے صحت کی دیکھ بھال کے قانون کے طور پر منتقل کیا۔ 

جبکہ ویسٹرن آسٹریلیا میں آج بھی ابتدائی مراحل میں اسقاط حمل پر دستخط کرنے کے لیے دو ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

محترمہ والٹرز کا کہنا ہے کہ یہ طبی نقطہ نظر سے غیر ضروری ہے۔ 

دوسری جانب کرسچن ایڈواکسی گروپ فیملی وائس آسٹریلیا اور ایسی دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خوش ہیں اسکو " جسٹس فار دا ان بورن " کہتے ہیں۔ 

اسکے علاوہ ایک پیش رفت میں گوگل سرچ انجن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسقاط حمل کیلیے کلینک کا دورہ کرنے والے صارفین کا لوکیشن ڈیٹا اپنے سسٹم سے ڈیلیٹ یعنی حذف کر دے گا۔ اسکی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب صارفین اسقاط حمل کے کلینک کا دورہ کرتے ہیں تو انکا ڈیجیٹل ٹریل حکام کو اطلاع دے سکتا ہے۔ جس نے ٹیکنالوجی کی صعنت کو مختلف خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ امریکی ریاستیں تیزی سے اسقاط حمل کے خلاف قانون سازی کر رہی ہیں، اس سے پولیس ایسے صارفین کی تلاش کیلیے وارنٹ حاصل کر سکے گی جوصارفین کی جیو لوکیشن یعنی جغرافیائی محل و قوع اور حمل کے منصوبوں کی   معلومات سے انہیں آگاہ کرے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس کی لوکیشن ہسٹری بطور ڈیفالٹ آف ہوتی ہے مگر جو لوگ گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے حساس مقامات جیسے فرٹیلیٹی مراکز، اسقاط حمل کے کلینکس، اور نشے کے علاج کے مراکز کے اندراجات کو دورے کے فوراً بعد حذف کر دیا جائے گا۔


شئیر