ایک نئی تحقیق نے یہ پایا ہے کہ آسٹریلیا بھر میں درختوں کے مرنے کی شرح نئے درختوں کے اگنے کی شرح سے زیادہ ہو رہی ہے، یہ ایک رجحان ہے جو کاربن کے اخراج میں اضافے کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ تحقیق ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی کی زیر قیادت کی گئی ہے اور یہ "نیچر پلانٹس" جرنل میں شائع ہوئی ہے، اس تحقیق میں پایا گیا ہے کہ ہر قسم کے ماحولیاتی نظاموں میں - ٹراپیکل بارانی جنگلات سے لے کر یوکالیپٹس کے جنگلات تک – درختتوں کی تعداد کم ہو رہی ہے جبکہ آب و ہوا گرم ہو رہی ہے۔
ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے ماحولیات سے تعلق رکھنے والی پروفیسر بیلنڈا میڈلن 1990 کی دہائی سے درختوں کا مطالعہ کر رہی ہیں۔
وہ ایک نئی رپورٹ کی سینئر مصنفہ ہیں جس میں پتہ چلا ہے کہ آسٹریلیا کے جنگلات کا گھناو کم ہو رہا ہے
یہ مطالعہ 83 سال کا ریکارڈ ہے جس میں 2,700 سے زیادہ جنگلاتی پلاٹس شامل ہیں۔
یہ پہلا مطالعہ ہے جو برّاعظم کے پھیلاؤ والے ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ کتنے درخت قدرتی طور پر، آگ یا درختوں کی کٹائی کے بغیر، چار قسم کے ماحولیاتی نظاموں میں مر رہے ہیں جن میں استوائی بارش کے جنگلات، سبانا اور معتدل یوکلپٹس کے جنگلات شامل ہیں۔





