Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE starting June 12 2026

اردو اور فارسی کا پُل: فائزہ ادریس آسٹریلیا میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان قربت کیسے بڑھا رہی ہیں

Women grants in Melbourne.

Women grants in Melbourne. Credit: Sarwat Nauman

زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی یہ یادوں، تہذیب، شناخت اور تعلق کا ایک زندہ احساس بھی ہوتی ہے۔ ہجرت کے بعد جب انسان ایک نئی سرزمین پر زندگی شروع کرتا ہے، تو اکثر زبان ہی وہ پہلا سہارا بنتی ہے جو اسے اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

By Shadi Khan Saif

پیش کار Shadi Khan Saif

ذریعہ: SBS



Share this with family and friends


زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی یہ یادوں، تہذیب، شناخت اور تعلق کا ایک زندہ احساس بھی ہوتی ہے۔ ہجرت کے بعد جب انسان ایک نئی سرزمین پر زندگی شروع کرتا ہے، تو اکثر زبان ہی وہ پہلا سہارا بنتی ہے جو اسے اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے۔


اردو اور فارسی کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آج آسٹریلیا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں، یہی زبانیں صرف ورثہ محفوظ رکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا وسیلہ بھی بن رہی ہیں۔ خاص طور پر اُن نوجوانوں کے لیے جو ہجرت، نئی شناخت اور نئے معاشرتی تجربات کے درمیان اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔

Faiza Idress
Faiza Idress Credit: Faiza Idress

آج کے پروگرام میں ہم بات کریں گے فائزہ ادریس سے۔ آسٹریلیا میں مقیم اردو لکھاری، معلمہ اور ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم شخصیت، جن کی اردو اور فارسی سے محبت میلبرن میں افغان طلبہ کے ساتھ ان کے تعلق کو ایک خاص معنویت دیتی ہے۔ فائزہ ادریس سمجھتی ہیں کہ زبان صرف بولی نہیں جاتی، بلکہ محسوس بھی کی جاتی ہے — اور یہی احساس مختلف ثقافتوں کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہے۔


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now