زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی یہ یادوں، تہذیب، شناخت اور تعلق کا ایک زندہ احساس بھی ہوتی ہے۔ ہجرت کے بعد جب انسان ایک نئی سرزمین پر زندگی شروع کرتا ہے، تو اکثر زبان ہی وہ پہلا سہارا بنتی ہے جو اسے اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے۔
اردو اور فارسی کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آج آسٹریلیا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں، یہی زبانیں صرف ورثہ محفوظ رکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا وسیلہ بھی بن رہی ہیں۔ خاص طور پر اُن نوجوانوں کے لیے جو ہجرت، نئی شناخت اور نئے معاشرتی تجربات کے درمیان اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔
آج کے پروگرام میں ہم بات کریں گے فائزہ ادریس سے۔ آسٹریلیا میں مقیم اردو لکھاری، معلمہ اور ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم شخصیت، جن کی اردو اور فارسی سے محبت میلبرن میں افغان طلبہ کے ساتھ ان کے تعلق کو ایک خاص معنویت دیتی ہے۔ فائزہ ادریس سمجھتی ہیں کہ زبان صرف بولی نہیں جاتی، بلکہ محسوس بھی کی جاتی ہے — اور یہی احساس مختلف ثقافتوں کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہے۔




