مقامی صحافی دانش ارشاد کے مطابق احتجاجی مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اگر مہاجرین کی نشستوں سے متعلق فیصلہ نئی منتخب اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے تو احتجاج کا بنیادی مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین اس مطالبے کے فوری اور واضح حل پر زور دے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر احتجاج جاری رکھنے کی اصل وجہ برقرار نہیں رہتی۔
مقامی صحافی دانش ارشاد کے مطابق کشمیر میں احتجاجی تحریک تاحال جاری ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث عوام کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ اس صورتحال کے حل کے لیے مؤثر تعاون نہیں کر رہی۔
ارشاد دانش ارشاد کے مطابق بلاول بھٹو کی جانب سے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن (سچ اور مفاہمت) کمیشن قائم کرنے کی تجویز کا مظاہرین نے خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ چونکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی حکومت موجود ہے، اس لیے وہ وزیراعظم کو خط لکھ کر ایسے کمیشن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور سیاسی پیش رفت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا، جس کی ایک بڑی وجہ احتجاجی تحریک اور عوامی بے چینی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مظاہرین نے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کی حمایت کی، تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس تحریک کا کوئی سیاسی یا انتخابی مقصد نہیں، بلکہ یہ عوامی مطالبات اور حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔ ان کے بقول موجودہ حالات اور عوامی بے اعتمادی کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کیا، جس کا اثر ووٹر ٹرن آؤٹ پر واضح طور پر دیکھا گیا۔




