صدیق جان کے مطابق عمران خان کی قید اور ان کی سیاست دو الگ معاملات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان قائد اعظم کے بعد پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی ان کا ووٹ بینک موجود ہے۔ تاہم صدیق جان کے بقول پی ٹی آئی کو شدید اندرونی تقسیم کا سامنا ہے، جبکہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کا امکان بھی فی الوقت معدوم نظر آتا ہے۔
صدیق جان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین امریکہ، ایران، افغانستان اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جیسے تمام اہم امور پر شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے قریبی مستقبل میں کسی مفاہمت کا امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔ البتہ ان کے بقول ملک کو درپیش معاشی و سکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے کی ضرورت اور ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار، مستقبل میں کسی درمیانی راستے کا امکان پیدا کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی صدیق جان نے پی ٹی آئی کی اندرونی صف بندی پر بھی تنقید کی، اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکبر راجہ کی قیادت کو تنظیمی تقسیم کا بڑا سبب قرار دیا۔ ان کے مطابق عمران خان کے لیے آگے تین ممکنہ راستے ہیں: عوامی دباؤ کے ذریعے رہائی، اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت، یا نظام کے اندر بگڑتے حالات کے نتیجے میں از خود کوئی راستہ نکلنا - جن میں سے صدیق جان کے خیال میں تیسرا راستہ سب سے زیادہ ممکن ہے۔
چونکہ یہ صدیق جان کی ذاتی رائے پر مبنی گفتگو ہے، بہتر ہوگا کہ رپورٹ میں واضح طور پر یہ بتایا جائے کہ یہ ان کا تجزیہ ہے، حقیقت کا بیان نہیں - خاص طور پر عمران خان کی "مقبولیت" اور "استبلشمنٹ کے ارادوں" جیسے نکات پر، کیونکہ یہ متنازع سیاسی معاملات ہیں جن پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔




