پاکستان نےامریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل یا سفارتی رابطے میں ثالث یا سہولت کار کا اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی عالمی سطح پر اور دونوں فریقین کے جانب سے بھی بڑی تعریف کی گئی ہے۔ ، توکیا اس کے بدلے میں صرف “شکریہ” یا رسمی تعریف سے بڑھ کر ممکنہ سیاسی اور سفارتی فوائد مل سکتے ہیں؟ — معروف پاکستانی اینکر و صحافی مخدوم شہاب الدین اس بارے میں کیا کہتے ہیں جانتے ہیں اس پوڈ کاسٹ میں۔
"پاکستانی بہت شاندار رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل اور پاکستان کے وزیرِاعظم نے واقعی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے". ایران امریکہ مذاکرات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرح کے تعریفی الفاظ اکثر و بیشتر گردش میں رہے اور اس کے علاوہ بھی کئی عالمی لیڈروں نے ایران بحران کے دوران پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ مگر ان تعریفی کلمات کے علاوہ پاکستان کو اس ثالثی سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ معروف پاکستانی اینکر و صحافی مخدوم شہاب الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر شاید کوئی بڑا “انعام” نہ ملے، لیکن سفارتی کریڈٹ، عالمی ساکھ، معاشی نرم رویہ، اور علاقائی اثر و رسوخ اس کا اصل سرمایہ ہو سکتا ہے۔
مگر کئی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اسلام آباد اس موقع کو مستقل اسٹریٹجک فائدے میں بدل سکتا ہے یا نہیں؟





