خلیج کی حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی لیکن تجزیہ کار عبداللہ گل کے مطابق یہ سفارتی کامیابی عوام کے لیے حقیقی معاشی ریلیف میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے حکومت کی "غیر ذمہ دارانہ" پالیسی پر افسوس ظاہر کیا کہ ایران سے سستی گیس، بجلی اور تیل کے معاہدے کرنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا گیا، اور امریکہ سے قرضوں کی معافی جیسے دیرینہ مطالبات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔ ان کے بقول موجودہ عالمی ہمدردی وقتی ہے اور پاکستان کو ٹھوس، دیرپا مفادات کے حصول پر توجہ دینی چاہیے۔
اس گفتگو میں مہمان عبداللہ گل نے پاکستان کے حالیہ کردار پر روشنی ڈالی، جب خلیج میں امریکہ اور ایران کے مابین جنگ چھڑنے کے بعد پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور صدر ٹرمپ کو سیز فائر کی طرف مائل کیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے، بارہ بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدات، اور امریکہ کی جانب سے مثبت رپورٹنگ جیسے سفارتی فوائد حاصل ہوئے۔ تاہم عبداللہ گل نے شدید تنقید کی کہ پاکستان نے اس تاریخی موقع کو معاشی فائدے میں تبدیل نہیں کیا — نہ ایران سے سستی گیس اور تیل کے معاہدے کیے، نہ قرضے معاف کروائے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو "تاریخ کے غلط موڑ پر کھڑا" قرار دیا اور خبردار کیا کہ فیلڈ مارشل عاصف منیر اور ٹرمپ کے مابین موجودہ "ہنی مون" وقتی ہے، اور پاکستان کو مستقل مفادات — کشمیر کا حل، سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد، اور تجارتی مراعات — کا مطالبہ کرنا چاہیے، نہ کہ محض تعریفوں پر خوش ہونا چاہیے۔




