غم کو سمجھنا پیچیدہ ہے: یہ مختلف لوگوں اور مختلف ثقافتوں میں مختلف طریقے سے چلتا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا چیزوں کو اور بھی پیچیدہ بنا رہا ہے
آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سے تعلق رکھنے والے پروفیسر لاریسا ہورتھ نے کہا کہ سوشل میڈیا اکثر ایک ایسا پلیٹ فارم تصور ہوتا ہے جہاں کم جملوں میں بات مکمل ہو اور سوچ سمجھ کر بات چیت کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا۔
“ایک بار جب ہم ایک خوفناک واقعہ پر سکرول ڈوم کرتے ہیں، پھر الگورتھم ہمیں دوسرا بھیجتا ہے اور یہ مکمل طور بنا سیاق و سباق کے ایک جیسا لگنے لگتا ہے۔ اس میں تفصیل کی کمی ہے، “انہوں نے کہا۔
لیکن انہوں نے ایس بی ایس ایگزامنز کو بتایا کہ غم دراصل ایک متحد کرنے والی قوت ہوسکتی ہے۔
غم اور امید دراصل ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔Professor Larissa Hjorth, RMIT
کرسٹوفر ہال گریف آسٹریلیا کے سی ای او ہیں، جو حکومت کی فنڈ کردہ قومی غم اور تکلیف کی خدمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ غم کے لئے کوئی ثقافتی معیار نہیں ہے، لیکن مشورہ دیا گیا ہے کہ مرکزی دھارے میں موجود آسٹریلیان ثقافت کثیر ثقافتی برادریوں سے سیکھ سکتی ہے
انہوں نے کہا، “بہت سارے مغربی معاشرے نقصان کو پسماندہ کرنے کا خیال رکھتے ہیں۔”
مغربی معاشرے خوشی، پیداواری صلاحیت... چھوڑنے اور آگے بڑھنے کےخیال کو اعزاز دیتے ہیں۔Christopher Hall, Grief Australia
ایس بی ایس اییگزامنز بونڈی بیچ گئے تاکہ راہروں سے ان کے غم کے سفر، غم کے ثقافتی پہلوؤں، اور کیا سوشل میڈیا ان کے لئے غم کرنا مشکل بنا رہا ہے یا نہیں۔ ان سوالات کا جواب حاصل کیا جا سکے
ایس بی ایس اایگزامنز کی اس قسط میں، ہم آسٹریلین باشندوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ کس طرح غم کرتے ہیں، اور غم تقسیم کرنے والے واقعات کے ذریعے ہمیں اکٹھا کرنے میں کس طرح مدد کرسکتا ہے



