قدیم سینٹرل جیل میں کوئی پچیس برس، کسی کو عمر قید تو کوئی دس برس کی سزا کاٹ رہا ہے لیکن اس قید کے دوران بھی ان قیدیوں کی صلاحیتوں کو کوئی پابند سلاسل نہیں کر سکا، ان قیدیوں نے اپنے ہنر سے دنیا کو دکھا دیا کہ فن کسی کی میراث نہیں، کسی قیدی نے بپھرے سمندر میں زندگی کی امید دلائی، تو کسی نے مقبولِ عالم شاہکار مونا لیزا کو سندھ دھرتی کے پہناوے میں پینٹ کیا، تو کسی نے تھری ڈی پینٹ سے دیکھنے والوں کو حیرت کدے میں دھکیل دیا۔
سینٹرل جیل کراچی اور آرٹس کونسل آف پاکستان کے اشتراک سے قیدیوں کے بنائے فن پاروں کی تین روزہ نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں ان کے ہاتھوں سے بنے شاہکار عام افراد کے سامنے لائے گئے۔

گیارہ برس سے قید محمد اعجاز کہتے ہیں کہ جب جیل گیا تو وہاں کا ماحول پریشان کن تھا، وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ ہنر سیکھا اور تھری ڈی پینٹنگ بنانا شروع کیں، محمد اعجاز نے سندھ حکومت اور عدالت سے سزا ختم کرنے کی درخواست بھی کی۔
جیل میں دس برس سے قید االلہ ودھایو کہتے ہیں کہ مصوری شوقیہ شروع کی اور وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ اس میں مہارت حاصل کر لی، انہوں نے بتایا کہ جیل میں قیدیوں کو دیگر ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ مصوری بھی سکھائی جاتی ہے، جو نہ صرف ایک صحت مند سرگرمی ہے بلکہ قیدیوں کی اچھی آمدن کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
حسنین سال 2007 سے جیل میں قید ہیں اور کہتے ہیں کہ مصوری ان کی تنہائی اور مشکلات کو بھلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، حسنین بتاتے ہیں قید میں سولہ سال بیت گئے اگر یہ کام نہ سیکھتا تو شاید پاگل ہو جاتا۔

اردو کے ممتاز ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود نے بھی اس تصویری نمائش کا دورہ کیا، قیدیوں کے کام کی تعریف کی اور اپنے روایتی انداز میں کہا کہ کچھ تخلیق کاروں کو بھی جیل بھیجنے کی ضرورت ہے، ہو سکتا ہے کہ اس سے ان کے کام میں بہتری آجائے، انور مقصود نے اعلیٰ حکام سے قیدیوں کے ہنر کو دیکھتے ان کی قید میں کمی کی درخواست بھی کی۔
سابق صوبائی وزیر سعید غنی فن پاروں کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہا ہماری کوشش رہی ہے کہ جیل کے اندر لوگوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ جرائم سے دور ہو جائیں۔
قیدیوں کے ہاتھوں بنے ان شاہکاروں کو دیکھنے کیلیے ایم کیو ایم کی ڈپٹی کنوینر نسرین جمیل، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان، سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن سمیت بڑی تعداد میں عام افراد آرٹس کونسل پہنچے اور ان قیدی آرٹسٹوں کی تخلیق اور رنگوں کے حسین امتزاج کی کھلے الفاظ میں تعریف کی۔
(رپورٹ: احسان خان)




