پہلی بار پاکستان کی دو سیلرز زویا اسد علی اور مہناز جمیل نے انٹرنیشنل سیلنگ ججز کورس کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ دونوں نے تھائی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ سیلنگ کے انٹرنیشنل سیمینار میں شرکت کی اور بعد ازاں امتحان میں شاندار نمبرز کے ساتھ کامیابی حاصل کی
دونوں سیلرز کو آئندہ 4 سال میں 3 انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت بھی کرنا ہوگی۔ایس بی ایس سے خصوصی گفتگو میں دونوں نے اپنے تجربات بیان کئے اور خوشی کا اظہار کیا۔

ڈھاکہ میں پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دی
کپتان شان مسعود نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگاؤں گا شکست کی ذمہ داری خود لوں گا بطور کپتان کوششش کرتا ہوں چیزوں کو بہتر کروں
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے نجم الحسن شانتو اور مومن الحق نے اچھا کھیل پیش کیا ہمیں لگا کہ مومن الحق اور شانتو کی پارٹنرشپ کی وجہ سے میچ ہاتھ سے نکلا آئیے

کرکٹ آسٹریلیا نوجوان اور نئے کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ کے ساتھ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔ الیکس کیری، کیمرون گرین، مارنس لبوشین اور ایڈم زمپا سمیت دیگر اہم کھلاڑی شامل ، اس کے علاؤہ رائیلی میریڈتھ اور بلی اسٹین لیک کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے
جبکہ پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ کو آرام دیا گیا ہے۔
ون ڈے میچز 30 مئی کو راولپنڈی جبکہ 2 اور 4 جون کو لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستانی نوجوان کراٹے فائٹر راجہ ریحان نے جرمنی میں ہونے والے معروف ایونٹ Zwönitztalpokal میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
راجہ ریحان نے پہلی فائٹ میں اِنگو شیفر کو 0-6، سیمی فائنل میں مارسل کوچ کو 0-1 جبکہ فائنل میں تیمور مانیوف کو 0-9 سے شکست دے کر ایونٹ جیت لیا۔
ان کی یہ کامیابی نہ صرف محنت اور لگن کا ثبوت ہے بلکہ بیرونِ ملک پاکستان کا نام بھی روشن کر رہی ہے۔ایس بی ایس سے خصوصی گفتگو میں کیا کہا اپکو سناتے ہیں
-آپ SBS اردو کے ساتھ ہیں۔ -SBS اردو کے لیے میں ہوں حافظ محمد بلال۔ آج
کھیلوں کی خبروں کا آغاز کریں گے کرکٹ آسٹریلیا کے دورہ پاکستان سے۔ جی سامعین
کرکٹ آسٹریلیا نے نوجوان اور نئے کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ کے ساتھ رواں ماہ پاکستان کا
دورہ کرے گا۔ الیکس کیری، کیمرون گرین، مارنس لبوشن اور ایڈم زمپاس میں دیگر اہم
کھلاڑی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رائیلی مرڈتھ اور بلی سٹین لیک بھی ٹیم میں واپسی ہوئی
ہے۔ جبکہ پیٹ کمنز، مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ کو آرام دیا گیا ہے۔ ون ڈے میچز 30
مئی کو راولپنڈی جبکہ 2 اور 4 جون کو لاہور میں کھیلے جائیں گے۔
[موسیقی] اب بات کریں گے بنگلہ دیش نے پاکستان کو ایک اور ٹیسٹ میں ہرا دیا۔ جی
سامعین ڈاکہ میں پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دی۔
کپتان شان مسعود نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگاؤں گا۔ شکست کی ذمہ داری خود لوں
گا۔ بطور کپتان کوشش کرتا ہوں چیزوں کو بہتر کروں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے نجم
الحق حسن شانتو اور مومن الحق نے اچھا کھیل پیش کیا۔ ہمیں لگتا ہے کہ مومن الحق اور
شانتو کی partnership کی وجہ سے میچ ہاتھ سے نکل گیا۔ آئیے آپ کو کپتان شان مسعود کی
-گفتگو سناتے ہیں۔ -ٹیسٹ کرکٹ میں کافی چیزیں ہیں جو ہمیں بہتر
کرنی پڑیں گی۔ آہ میں کبھی بھی کسی پر blame game نہیں کھیلوں گا۔ میں responsibility
خود accept کروں گا لیکن میری ہمیشہ یہ کوشش ہے کہ ہم as a ٹیسٹ ٹیم کیا چیزیں اچھی کر
رہے ہیں، کیا چیزیں بہتر کر سکتے ہیں اور کیا چیزیں ہمیں مزید بہتر کرنی ہیں ایک اچھی
ٹیسٹ ٹیم بننے کے۔ اگر میرے آپ intentions کا پوچھیں، میرے pure intentions اسی طرف
ہیں،
آہ چاہے وہ ٹیم selection ہو، چاہے وہ کھیلنا ہو، چاہے وہ اپنی batting position
ہو، چاہے وہ کوئی بھی ٹیم related کوئی چیز ہو تو اس میں سب سے بڑی جو بات ہے وہ
پاکستان ٹیم کس طریقے سے بہتر ہو سکتی ہے۔ جیسے میں نے آپ کو پہلے بھی بولا کہ
ٹیسٹ کرکٹ آپ کا best مانگتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کبھی بھی کسی weaker opposition سے
نہیں کھیلتے۔ ٹیسٹ کرکٹ ایک ایسی چیز ہے جس میں best versus best ہوتا ہے اور جہاں بھی
آپ mistakes کریں گے، ان mistakes آپ کو mistakes کا margin نہیں ملے گا۔ Hundred
percent I thought as a bowling unit.
I never like it's at the end of the day it's a team effort. So I'd never say that
the bowling went wrong or the batting went wrong. But as a bowling unit, as a team,
we felt that twice we bowled really well in these in the first hour. We got two
early wickets and that's what you want. You want the middle order to face the
harder ball
conditions where the bowlers are on top. And twice I think you have to give credit
to Shanto and Mominal for batting well. But as a bowling unit, that's where we'll
-feel that we let the game slip away. -[موسیقی] اب
بات کریں گے جرمنی میں پاکستانی کراٹے فائٹر راجہ ریحان نے gold medal جیت لیا۔ جی
سامعین پاکستانی نوجوان کراٹے فائٹر راجہ ریحان نے جرمنی میں ہونے والے معروف ایونٹ
میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے gold medal اپنے نام کر لیا۔ راجہ ریحان نے پہلی فائٹ
میں اینگو شیفر کو 6-0، semi final میں مارسل کوچ کو 1-0، جبکہ فائنل میں
تیمور مانف کو 9-0 سے شکست دے کر ایونٹ جیت لیا۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف محنت اور
لگن کا ثبوت ہے بلکہ بیرون ملک پاکستان کا نام بھی روشن کر رہی ہے۔ SBS سے خصوصی
-گفتگو میں کیا کہا آپ کو سناتے ہیں۔ -میں نے 2024 میں جرمن نیشنل چیمپیئن بننے کا
ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس کے علاوہ European Championship میں میں نے جرمنی کے لیے سلور
میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی میں بہت سارے ٹائٹل اپنے نام کر چکا ہوں اور حال ہی
میں ہونے والی انٹرنیشنل چیمپیئن شپ جو کہ جرمنی میں منعقد ہوئی، اس میں میں نے gold
medal حاصل کیا۔ جتنی بھی میری کامیابی ہیں اس کا میں credit دینا چاہوں گا اپنے تمام
coaches کو خاص طور پر میری wife جو کہ میری coach بھی ہیں، انہوں نے میرے پر بہت محنت
کی
کیونکہ میری physics سے لے کے میری ساری چیزوں کو وہی دیکھتی ہیں اور اس کے علاوہ
میرے والدین جن کی دعائیں ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں تو اب میرا جو target ہے وہ یہ ہے
کہ 2026 میں again اپنے ٹائٹل کو واپس لینا اور اس کے علاوہ جتنی بھی championships آ
رہی ہیں انٹرنیشنل، اس کے لیے میں اپنی
اپنے آپ کو prepare کرنا میرا target ہے اور
میں امید کرتا ہوں کہ میں یہ ٹائٹل اپنے نام کر کے نہ کہ صرف جرمنی کا بلکہ پاکستان کا
بھی نام روشن کروں گا۔
[موسیقی] اب آخر میں بات کریں گے sailing میں پاکستان کی دو خواتین نے نئی تاریخ رقم
کر دی۔ جی سامعین پہلی بار پاکستان کی دو sailors زویا اسد علی اور مہناز جمیل نے
انٹرنیشنل sailing judges course کامیابی سے مکمل کر لیا۔ دونوں نے تھائی لینڈ میں ہونے
والے World Sailing کے انٹرنیشنل seminar میں شرکت کی اور بعد از امتحان میں شاندار
نمبرز کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اب دونوں کو آئندہ چار سال میں تین انٹرنیشنل events
میں شرکت بھی کرنا ہو گی۔ SBS سے خصوصی گفتگو میں دونوں نے اپنے تجربات اور
-خوشی کا اظہار کیا۔ -یہ جو انٹرنیشنل judging seminar میں میں نے
exam پاس کیا ہے،
آہ کافی مشکل exam ہوتا ہے مختلف طرح کے اس میں چار sections ہوتے ہیں اور چاروں
section میں آپ کو پاس ہونے کے لیے 80% سے above لینے ہوتے ہیں۔ support جو ہے وہ بہت
سارے لوگوں کی ہے، اس طرح کا کام اکیلے بالکل نہیں ہو سکتا۔ سب سے بڑے میرے
supporter
جو میرے جنہوں نے مجھے sailing سکھائی بھی، جو میرے coach بھی تھے Captain
عبدالرحمان ارشد اور وہ پاکستان کے واحد انٹرنیشنل race officer ہیں، باقی یہ کہ جب
میں events میں جاتی ہوں باہر مختلف ممالک میں، آہ ایک بہت اچھی feeling ہوتی ہے کہ آپ
اپنے ملک کو represent کر رہے ہیں اور جب وہاں مختلف ان ملکوں کے جھنڈوں کے ساتھ جب
پاکستان کا جھنڈا لگایا جاتا ہے اس وجہ سے کہ پاکستان کی ایک official اس jury میں ہے
تو بہت اچھی feeling ہوتی ہے، بہت فخر ہوتا ہے،
بس وہ بیان نہیں کر سکتی میں feeling کہ وہ کیسی ہوتی ہے۔ تو میری بس یہی
کوشش ہے کہ انشاءاللہ میں جلد سے جلد اپنے یہ مراحل complete کر کے انٹرنیشنل judge
-بنوں۔ -پاکستان کی نمائندگی کر کے مجھے بہت ہی اچھا
لگتا ہے، مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کیونکہ میرا یہ qualification لینے کا مقصد ہی یہ
تھا کہ میں پاکستان کی sailing community کے کام آؤں۔ پاکستان میں جب کوئی اور judge ہے
ہی نہیں تو پھر ہمیں اپنے بڑے competitions کے لیے باہر سے judges کو بلانا پڑتا ہے
اگر ہمارا کوئی rules کے لحاظ سے کوئی ہمارا سوال ہو تو ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا
پڑتا ہے اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں کافی سارے لوگوں سے جا جا کے پوچھنا پڑتا ہے
تو میرا مقصد یہی تھا کہ پاکستان کی sailing community کے لیے تھوڑی اور آسانیاں
پیدا کرنے کے لیے اور مجھے بہت خوشی ہے کہ میں یہ کر پا رہی ہوں۔
-SBS اردو کے لیے میں ہوں حافظ محمد بلال۔ -Like کیجیے، share کیجیے، تبصرہ کیجیے
Facebook پر SBS اردو follow کیجیے。




