پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا ایک قدیم علاقہ نارائن پورہ کمپاؤنڈ، جو ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے بین المذاہب آہم آہنگی کا مرکز بنا ہوا ہے، 1870 سے قائم اس علاقے کی گلیاں تنگ اور گھر چھوٹے ہیں، تاہم یہاں کے مکینوں کے دل بڑے ہیں، جب کہ اس کمپاؤنڈ کی خاص بات یہاں آباد ہندو، سکھ اور مسیحی برادریاں ہیں، جو نہ صرف پُرامن انداز میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں بلکہ پوری آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات پر بھی عمل پیرا ہیں اُدھر پاکستان کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر اب مردوں کے ساتھ خواتین بھی انتہائی اعتماد کے ساتھ بائیک چلاتی دکھائی دیتی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک خواتین کا بائیک چلانا ایک غیرمعمولی اور حیران کن عمل سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ منظر رفتہ رفتہ معمول بنتا جا رہا ہے، بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، غیرمنظم سفری نظام اور مہنگی ٹیکسی و رکشہ سروسز نے خواتین کیلئے دفاتر، تعلیمی اداروں اور روزمرہ کے کاموں تک رسائی کو ایک مشکل مرحلہ بنا رکھا تھا لیکن اب وہی خواتین بائیک چلانا سیکھ کر نہ صرف اپنی نقل و حرکت میں خودمختار ہوگئی ہیں بلکہ وقت اور پیسے دونوں کی بچت بھی کر رہی ہیں۔
یہاں مندر موجود ہیں تو ساتھ ہی گردوارہ بھی قائم ہے، مسیحی برادری کا اپنا چرچ بھی عبادات کیلئے بنا ہوا ہے۔ یہاں دیوالی اور ہولی منائی جاتی ہے، تو ساتھ ہی کرسمس کے تحائف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں، بیساکھی کا موقع بھی کوئی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
150 سال گزرنے کے بعد بھی آج اس علاقے کی کیا صورتحال ہے اور یہاں کے مکین کس طرح اپنا گزر بسر کر رہے ہیں اس کیلئے ہم نے نارائن پورہ کمپاؤنڈ کا دورہ کیا، جہاں سب سے پہلے ہماری ملاقات ہندو کمیونٹی کے مقامی رہنما رام چرن سے ہوئی، رام چرن کے مطابق اس علاقے کی بنیاد ایک مزدور رہنما نارائن داس کےنام سے ڈالی گئی تھی، ان کے مطابق 1870 سے قبل بھی ہماری ہندو آبادی یہاں موجود تھی۔ رام چرن کے مطابق نارائن پورہ کمپاؤنڈ بین الامذاہب ہم آہنگی کا ایک گلدستہ ہے، چاروں اطراف میں مسلمان رہائش پذیر ہیں تاہم اس کے باوجود ہم یہاں بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ہم ایک دوسرے کے تہواروں میں بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات پر عمل کرنے کی مکمل اجازت حاصل ہے، اسی کپماؤنڈ میں موجود سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے چرن سنگھ کا کہنا تھا کہ یہاں ہندو برادری، مسیحی اور سکھ کمیونٹی پُرامن انداز میں رہائش پذیر ہے۔
مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پیٹر کے مطابق ہمارے کمپاؤنڈ میں جب بھی کسی تہوار کا موقع آتا ہے تو ہم سب مل کر اس کا جشن مناتے ہیں۔
اگر خواتین بائیک چلانا سیکھ جائیں تو کسی کے انتظار کی ضرورت نہیں رہتی، وہ کہیں بھی، کسی بھی وقت آنے جانے میں خود مختار ہوجاتی ہیں۔ اور کچھ ایسا ہی مناظر آجکل پاکستانی شہروں کی سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ یہ تبدیلی اگرچہ آج نمایاں نظر آتی ہے، مگر اس کے پیچھے چند خواتین کی برسوں پر محیط محنت شامل ہے، جنہوں نے نہ صرف سیکڑوں لڑکیوں کو بائیک چلانا سکھایا بلکہ معاشرے میں خواتین کی خودمختاری سے متعلق ایک نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔
زینب صفدر، گزشتہ 9 برسوں سے خواتین کو بائیک چلانا سکھا رہی ہیں، انہوں نے 2017 میں اپنے ادارے ’ راؤڈی رائیڈرز‘ کی بنیاد رکھی، ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے میں نے خود بائیک چلانا سیکھی، جس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگر اس سے ہماری زندگی آسان ہوئی ہے تو کیوں نہ دیگر خواتین کو بھی بائیک چلانا سکھائی جائے۔ وہ بتاتی ہیں کہ مجھے گھر سے کچھ مخالفت کا بھی سامنا رہا تاہم اس کے باوجود یہ اقدامات اٹھایا اور آج تک تقریبا 2500 سے زائد خواتین کو بائیک رائیڈنگ سکھا چکی ہیں۔ زینب صفدر نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2017 میں جب بائیک رائیڈنگ سکھانے کا آغاز کیا تھا تو اس وقت خواتین کے بائیک چلانے کا رجحان نہیں تھا، تاہم اب صورتحال مختلف ہے اور ہماری ہی لڑکیاں اب مختلف جگہوں پر دیگر لڑکیوں کو سکھانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
راؤڈی رائیڈرز سے ہی بائیک رائیڈنگ سیکھنے والی ایشا سلیم کہتی ہیں ابتدا میں معاشرے کا بہت زیادہ دباؤ تھا جس کی وجہ سے چھپ کر بائیک چلانا سیکھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم ابتدا میں اپنی بائیکس روڈ پر نکالتے تھے تو لوگ ہمیں دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ قیامت کے مناظر ہیں، ساتھ ہی طرح طرح کے جملے بھی کسے جاتے تھے، تاہم اب کوئی مشکل درپیش نہیں رہی، روز مرہ کے معمولات کی انجام دہی میں بھی آسانی ہو گئی ہے۔ ایشا سلیم یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ بائیک چلاتے ہوئے بہت زیادہ ڈر لگ رہا تھا، لیکن اب کوئی ڈر نہیں رہا، نہ لوگوں کا اور نہ ہی رش کا، ساتھ ہی رکشہ اور ٹیکسی والوں سے کرایہ پر بحث کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ وہ دیگر خواتین کو مشورہ دیتے ہوئے کہتی ہیں اگر خواتین بائیک چلانا سیکھ جائیں تو کسی کے انتظار کی ضرورت نہیں رہتی، وہ کہیں بھی، کسی بھی وقت آنے جانے میں خود مختار ہوجاتی ہیں۔
ایس بی ایس اردو سے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی




