14 دسمبر کو بونڈائی میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے پورے آسٹریلیا کو رنج و غم میں مبتلا کردیا۔ مسلم کمیونیٹی اور رہنماؤں نے نہ صرف اس حملے کی پرُ زور مذمت کی بلکہ متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس افسوس ناک واقعے پر ردِعمل جاننے کے لیے ہم نے جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے ممتاز آسٹریلین مسلمانوں سے گفتگو کی، جن میں نیو ساؤتھ ویلز لیبر پارٹی کے رکن، سابق ایم ایل سی اور نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ کی قانون ساز کونسل کے سابق اسسٹنٹ صدر شوکت مسلمانی، پاکستان کے سابق کنوسلر جنرل محمد اعظم ، Helping ACT کے بانی و صدر محمد علی، اور Australian Muslim Times (AAMUST) کے ایڈیٹر اِن چیف ضیاء احمد شامل ہیں۔
اس پوڈ کاسٹ میں بونڈائی میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر نمایاں کمیونٹی شخصیات کے ردِعمل سنئے۔
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو مدد درکار ہو تو Lifeline سے Lifeline Crisis Support Chat یا۔ Beyond Blue کے آن لائن فورمز استعمال کریں۔
آسٹریلیا کے مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ بونڈائی بیچ دہشت گردانہ حملے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، آسٹریلیا کے باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ تقسیم کے بجائے اتحاد کے ساتھ جواب دیں۔





