آج کے جدید دور میں کیا آپ نے کسی نوجوان کو قلم اور کاغذ کے ساتھ اپنی زندگی کو ترتیب دیتے دیکھا ہے؟یا پھر ہم سب اسکرینز کی چمک میں اتنے گم ہو چکے ہیں کہ سیاہی کی خوشبو اب ایک پرانی یاد بن گئی ہے؟ اسی تیزرفتار دنیا میں، جہاں ہر لمحہ نوٹیفکیشنز کی آواز سے جڑا ہوا ہے، کچھ لوگ اب بھی زندگی کو ذرا ٹھہر کر جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک منفرد نوجوان سے ملواتے ہیں جو ٹیکنالوجی سے دور نہیں، مگر اس کا غلام بھی نہیں۔
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ڈینیل ٹو سے میری ملاقات Melbourne کی ایک ہلکی ٹھنڈی شام میں دریائے یارا کے کنارے ایک پُرسکون کیفے میں ہوئی۔ اردگرد روشنیوں کا عکس پانی پر جھلمل کر رہا تھا، اور اس شور بھری دنیا کے بیچ وہ ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک سادہ سی نوٹ بک تھی… اور ایک پرانا فاؤنٹین پین۔وہ نہایت خوبصورت خوشنویسی کے ساتھ اپنی ڈائری کے اوراق بھر رہا تھا—جیسے ہر لفظ کو محسوس کر کے لکھ رہا ہو، نہ کہ صرف ریکارڈ کر رہا ہو۔
وہ اسکرینز سے مکمل دور نہیں… مگر ان کا اسیر بھی نہیں۔نہ اسے ہر لمحے آنے والی نوٹیفکیشنز کی عادت ہے، نہ سوشل میڈیا کی چمک دمک اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔اس کے لیے وقت صرف گزرتا نہیں… ٹھہرتا بھی ہے۔





