یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے پروفیسر گراہم اوور کہتے ہیں کہ اب انتخابی گہماگہمی زیادہ زور اور شور کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کے بعد سے ایک نگراں نظام کے تحت حکومتی امور کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وفاقی پارلیمان کے معمول کے کام رک جائیں گے اور گورنر جنرل کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دستور جاری کیا جائے گا کہ انتخابی عمل باضابطہ طور پر شروع کیا جائے۔
ڈپٹی الیکشن کمیشنر کیتھ گلیسن کے بقول اوائل میں ان افراد کی فہرست تیار کی جائے گی جو ووٹ دے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں کے لیے محض ایک ہفتے کا وقت رہ گیا ہے کہ وہ اپنے نام کا اندراج کراسکیں۔

اب آپ کو اپنی گلی، کوچے اور بازار میں سیاست دان گھومتے پھرتے اور انتخابی مہم چلاتے دکھائی دیں گے۔ ہوسکتا ہے وہ آپ کے گھر کے دروازے پر بھی دستک دیں اور آپ کے لیٹر باکس کو انتخابی پوسٹرز سے بھر دیں۔






