برسبین میں مقیم ڈینٹسٹ عامر سعید نے بتایا کہ آپ اگر مہنگے علاج کی وجہ سے اپنا ڈینٹل چیک اپ نہیں کرا پاتے تو اس کے نتیجے میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
برسبین میں مقیم ڈینٹسٹ عامر سعید نےایس بی ایس سے بات چیت میں بتایا کہ دانتوں کا معائنہ ہر چھ ماہ بعد کرانا چاہیے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم سال میں ایک بار ضرور چیکاپ کرانا چاہیے۔
آسٹریلیا میں تقریباً 15 لاکھ بچے مہنگے علاج کی وجہ سے اپنا ڈینٹل چیکاپ مس کر دیتے ہیں، اور حکومت کی جانب سے شروع کی گئی چائلڈ ڈینٹل بینیفٹس اسکیم صرف ان بچوں کو شامل کرتی ہے جن کے والدین کو فیملی ٹیکس بینیفٹ ملتا ہے۔
عامر سعید کے مطابق بروقت علاج نہ کرانے کی صورت میں دانتوں کا کیڑا رگوں تک پہنچ کر شدید درد اور پھر پھوڑے (ابسیس) کا باعث بن سکتا ہے، جس کے بعد مریضوں کو ہسپتال جانا پڑتا ہے جہاں آسٹریلیا میں ڈینٹل کیئر کی سہولت تقریباً ناپید ہے اور انتظار کا وقت ایک سے دو سال تک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ڈینٹل سروسز میڈیکیئر کے تحت نہیں آتیں اس لیے تمام کلینک نجی طور پر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتیں بلند رہتی ہیں، تاہم انہوں نے مشورہ دیا کہ مریض مختلف کلینکس سے قیمتوں کا موازنہ ضرور کریں کیونکہ ریٹس میں فرق ہو سکتا ہے۔ بچوں کے لیے چائلڈ ڈینٹل بینیفٹس اسکیم کے تحت چیکاپ، صفائی، فلنگ اور دانت نکالنے جیسی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ کراؤن، برج اور آرتھوڈونٹکس اس اسکیم میں شامل نہیں۔





