1948 کی عرب-اسرائیل جنگ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل اور پیچیدہ تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔لیکن اس پرتشدد تصادم کی شدت میں اضافے کی وجہ کیا بنی، اور فلسطینی اور اسرائیلی اس جنگ کو کس طرح یاد کرتے ہیں؟
۱۵ مئی کو ’ یومِ نبکہ’ منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اسرائیل کے قیام کے بعد 1948 میں تقریبا 8 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کردیا گیا تھا۔اسرائیلی اس دن کو یوم تشکر کے طور پر مناتے ہیں۔
اس تنازع کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد 20ویں صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ کو کس طرح تقسیم کیا گیا۔برطانوی حکومت نے 1917 میں اُس وقت کے فلسطین کا کنٹرول سنبھالا، اور ایک مینڈیٹ جاری کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ یہودی قوم کے لیے ایک قومی وطن کے قیام میں مدد فراہم کی جائے۔
ڈاکٹر مارٹن کیئر، جو یونیورسٹی آف سڈنی میں بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرر ہیں، مینڈیٹ کے بعد فلسطینیوں اور یہودیوں کے لیے کیے گئے متضاد وعدے قرار دیتے ہیں۔
1948 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فتح کے بعد فلسطین کی سرزمین کے 78 فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا گیا , یہودی آباد کاروں کو متروک مکانات دے دیے گئے. فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد اس وقت لگ بھگ تقریباً 60 لاکھ ہیں۔–

مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، اور غزہ کی پٹی میں تقسیم کی گئی تھی۔اس جنگ میں اسرائیل نے جو علاقے قبضے میں لیے انہیں آج بھی بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے تصور کیا جاتا ہے۔





