مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ وہ تنگ مگر انتہائی اہم بحری راستہ ہے جس کے ذریعے خلیجی ممالک سے دنیا بھر کو تیل اور گیس پہنچتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلا اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑے گا، جس کے بعد مہنگائی، ٹرانسپورٹ لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ہم نے ماسٹر میرنر شاہد بھٹی سے بات کی، جو 19 سال تک سمندر میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق سمندر میں کسی بھی اہم گزرگاہ کی بندش محض نقشے پر ایک لائن بند ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جہازوں کے راستے بدلیں گے، سفر طویل ہوگا، انشورنس مہنگی ہوگی اور سامان کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ماسٹر شاہد بھٹی کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو شپنگ انڈسٹری فوری دباؤ میں آ جائے گی۔ جہاز رانیاں متبادل راستوں پر جانے پر مجبور ہوں گی، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوگا۔ اس کا براہِ راست اثر نہ صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک پر پڑے گا بلکہ ان ممالک پر بھی ہوگا جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمندر میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایسی کشیدگی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی سلامتی کا معاملہ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی اہم آبی گزرگاہ میں خطرہ بڑھتا ہے تو وہاں کام کرنے والے عملے، جہازوں اور عالمی تجارت سب کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔




