SKIP TO MAIN CONTENT

طالبان کے اقتدار کے پانچ سال: افغان خواتین فٹبالرز کی مزاحمت اور امید کی کہانی

Afghanistan-Taliban-3 Years-Timeline
FILE - Afghan women wait to receive food rations distributed by a humanitarian aid group, in Kabul, Afghanistan, May 23, 2023. The Taliban Virtue and Vice Ministry had on May 7, 2022 ,said women in public must wear all-encompassing robes and cover their faces except for their eyes. (AP Photo/Ebrahim Noroozi, File) Source: AP / Ebrahim Noroozi/AP

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، کھیل اور عوامی زندگی پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔ جلاوطنی میں افغان خواتین فٹبالرز نے اپنی قومی شناخت اور کھیل کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن صنفی امتیاز کو بین الاقوامی قانون کے تحت "جینڈر اپارتھائیڈ" تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

By Haylena Krishnamoorthy, Rashida Yosufzai, Allan Lee

پیش کار Rehan Alavi

ذریعہ: SBS


Skip to podcast episode content

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، کھیل اور عوامی زندگی پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔ جلاوطنی میں افغان خواتین فٹبالرز نے اپنی قومی شناخت اور کھیل کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن صنفی امتیاز کو بین الاقوامی قانون کے تحت "جینڈر اپارتھائیڈ" تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


افغان ویمنز یونائیٹڈ کی ڈیفنڈر اور انسانی حقوق کی کارکن مرسل سادات نے بتایا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیاں آج بھی انہیں پیغامات بھیجتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہ فٹبال، دوسرے کھیلوں اور تعلیم کو کتنا یاد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلاوطنی میں قومی ٹیم کی واپسی دنیا بھر کی افغان خواتین کے لیے امید کی علامت ہے۔

افغانستان کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی گول کیپر اور کپتان فاطمہ یوسفی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ افغان لڑکیوں کی ایک اور نسل ان حالات سے گزرے جن کا سامنا انہیں کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل، تعلیم، عوامی زندگی اور آزادی اظہار خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا کے اسٹریٹجک کمپینر اور افغان ایڈووکیٹ ذکی حیدری کا کہنا تھا کہ طالبان نے ایسے قوانین متعارف کرائے ہیں جنہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے بڑی حد تک باہر کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے طالبان پر سفارتی دباؤ بڑھانے اور خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے احترام کو بین الاقوامی امداد سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔

________________________

جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ ہمیں فیس بُک اور انسٹا گرام پر فالو کیجئے۔


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now