طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، کھیل اور عوامی زندگی پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔ جلاوطنی میں افغان خواتین فٹبالرز نے اپنی قومی شناخت اور کھیل کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن صنفی امتیاز کو بین الاقوامی قانون کے تحت "جینڈر اپارتھائیڈ" تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
افغان ویمنز یونائیٹڈ کی ڈیفنڈر اور انسانی حقوق کی کارکن مرسل سادات نے بتایا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیاں آج بھی انہیں پیغامات بھیجتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہ فٹبال، دوسرے کھیلوں اور تعلیم کو کتنا یاد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلاوطنی میں قومی ٹیم کی واپسی دنیا بھر کی افغان خواتین کے لیے امید کی علامت ہے۔
افغانستان کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی گول کیپر اور کپتان فاطمہ یوسفی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ افغان لڑکیوں کی ایک اور نسل ان حالات سے گزرے جن کا سامنا انہیں کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل، تعلیم، عوامی زندگی اور آزادی اظہار خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا کے اسٹریٹجک کمپینر اور افغان ایڈووکیٹ ذکی حیدری کا کہنا تھا کہ طالبان نے ایسے قوانین متعارف کرائے ہیں جنہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے بڑی حد تک باہر کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے طالبان پر سفارتی دباؤ بڑھانے اور خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے احترام کو بین الاقوامی امداد سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ ہمیں فیس بُک اور انسٹا گرام پر فالو کیجئے۔





