میکواری یونیورسٹی سڈنی میں اکاؤنٹنگ اینڈ کارپوریٹ گورننس شعبے کے سربراہ اور ڈسٹنگوئشڈ پروفیسر راحت منیر مینجمنٹ اور فارنزک اکاؤنٹنگ، مالی جرائم، پائیداری اور گورننس کے ماہر ہیں۔ ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں انہوں نے بینکنگ سے اکیڈمک دنیا تک اپنے سفر،تمغہ امتیاز حاصل کرنےکی خبر پر ردعمل کے ساتھ اپنی نمایاں تحقیق، بین الاقوامی طلبہ اور پاکستان سے علمی روابط پر بات کی.
پروفیسر منیر کی تحقیق مینجمنٹ اکاؤنٹنگ، کارپوریٹ گورننس، مالی جرائم، پائیداری اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے۔ انہیں اعلیٰ تعلیم اور پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
پروفیسر راحت منیر کا کہنا ہے، بین الاقوامی طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ آسٹریلیا آنے سے پہلے اپنی تعلیم، اخراجات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں مکمل تحقیق کریں۔ ان کے مطابق طلبہ کو صرف کام سے اخراجات پورے کرنے کی توقع کے بجائے اپنی تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

پروفیسر راحت کہتے ہیں کہ میکواری یونیورسٹی Macquarie University کے پاکستان کی منتخب جامعات کے ساتھ معاہدوں کے تحت طلبہ اپنی تعلیم کا کچھ حصہ پاکستان اور کچھ آسٹریلیا میں مکمل کر سکتے ہیں، جبکہ اسٹوڈنٹ ایکسچینج کے ذریعے بھی طلبہ ایک سمسٹر یونیورسٹی میں گزار سکتے ہیں۔
پروفیسر راحت منیر کے مطابق، ان کی یونیورسٹی بین الاقوامی طلبہ کو انٹرن شپس، کیریئر سروسز اور رہنمائی کے ذریعے تعلیم کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طلبہ کے لیے سالانہ 10 ہزار ڈالر فیس میں رعایت کی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی تھی، جسے بعد میں دیگر جنوبی ایشیائی ممالک تک توسیع دی گئی
کراچی میں تعلیم حاصل کرنے والے پروفیسر راحت منیر نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز بینکنگ سے کیا اور بعد میں آسٹریلیا آ کر ڈاکٹریٹ سمیت مزید پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کی۔
آج پروفیسر راحت منیر میکواری یونیورسٹی میں شعبہ اکاؤنٹنگ اینڈ کارپوریٹ گورننس کے سربراہ اور ڈسٹنگوئشڈ پروفیسر ہیں مگر ان کے اس سفر کے پیچھے علمی اور تحقیقی میدان میں ان کی سخت محنت اورجدوجہد شامل ہے۔





