جہاں ایک طرف آسٹریلیا میں امیگریشن کے حوالے سے بحث جاری ہے، وہیں ہاؤسنگ بحران بھی اپنی جگہ ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ ٹونی برک نے نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امیگریشن ہاؤسنگ بحران کی وجہ نہیں، بلکہ اسے اس بحران کے حل کا حصہ ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں وکٹوریہ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فہیم اللہ سے اس پوڈکاسٹ میں بات کی تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آیا امیگریشن میں کمی واقعی ہاؤسنگ بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر فہیم اللہ کے مطابق امیگریشن میں کمی سے رہائش کی طلب پر دباؤ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے، تاہم تعمیراتی نظام کی بنیادی مشکلات بدستور برقرار رہیں گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مارچ 2026 تک ایک سال میں net overseas migration کے ذریعے آسٹریلیا کی آبادی میں تقریباً 2 لاکھ 92 ہزار افراد کا اضافہ ہوا، جبکہ حکومت کا ہدف اسے تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار سالانہ تک لانا ہے، یعنی فرق تقریباً 67 ہزار افراد کا بنتا ہے، جو موٹے تخمینے کے مطابق تقریباً 27 ہزار گھروں کے برابر ہو سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک اندازہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اتنے گھر فوری طور پر دستیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال صرف 1 لاکھ 73 ہزار گھر مکمل ہوئے، جبکہ 12 لاکھ گھروں کے پانچ سالہ قومی ہدف کے لیے سالانہ اوسطاً 2 لاکھ 40 ہزار گھر درکار ہیں، یعنی تعمیراتی رفتار کو تقریباً 38 فیصد بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فہیم نے تعمیراتی لاگت میں اضافے، طویل تکمیل کے دورانیے، اور COVID کے بعد بڑھتی مہنگائی کو بھی تعمیراتی سست روی کی بڑی وجوہات قرار دیا، اور بتایا کہ گزشتہ دو تین سالوں میں کئی بڑی تعمیراتی کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہیں، صرف جون میں ملک بھر میں 339 کمپنیاں liquidate ہوئیں، جن میں سے ایک چوتھائی کا تعلق تعمیراتی شعبے سے تھا۔ ان کے مطابق امیگریشن میں کمی کچھ عارضی مہلت تو دے سکتی ہے، لیکن اصل حل تعمیراتی صلاحیت اور رفتار بڑھانے میں مضمر ہے، جس کے لیے حکومت کو نئے منصوبوں کے ساتھ تعمیراتی کمپنیوں کی مالی استحکام کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔





