آسٹریلیا کے مائننگ ٹاؤنز میں زندگی کے موضوع پر یہ سیریز کی تیسری قسط ہے۔ اس قسط میں ہم نے جواد اسلم سے بات کی، جنہوں نے آسٹریلیا میں کسی بڑے شہر میں رہائش اختیار کیے بغیر براہ راست پاکستان سے مورنبا منتقل ہو کر یہاں زندگی گزاری۔ جواد نے اپنے تجربے، مورنبا میں انجینئرنگ کی نوکری حاصل کرنے، اور پاکستان سے براہ راست مائننگ ٹاؤن میں نوکری حاصل کرنے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
جواد اسلم کے مطابق 2023 میں جب وہ پاکستان سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تو انہیں مورنبا کے بارے میں پہلے سے کچھ اندازہ تھا، کیونکہ ان کے کچھ جاننے والے پہلے ہی اسی صنعت میں وہاں کام کر رہے تھے اور انہوں نے خاندان اور مقامی زندگی سے متعلق چیلنجز کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کا کردار انجینئرنگ سے متعلق ہے، اس لیے ان کے لیے FIFO یا DIDO جیسے آپشنز دستیاب نہیں تھے، اور ان کی اولین ترجیح یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہی رہیں۔
جواد نے پاکستان اور آسٹریلیا کے مائننگ ٹاؤن کی زندگی کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلے بھی رحیم یار خان کے قریب ایک چھوٹے قصبے میں مقیم رہ چکے تھے، اس لیے مورنبا کی نسبتاً سست رفتار زندگی سے ہم آہنگ ہونا ان کے لیے مشکل نہیں تھا، اور انہیں یہاں کی ثقافتی تنوع پاکستان کے مقابلے میں زیادہ پرکشش محسوس ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ جو لوگ offshore سے آسٹریلیا میں ملازمت کے خواہاں ہیں، ان کے لیے میٹروپولیٹن شہروں کے مقابلے میں مائننگ ٹاؤنز یا ریجنل علاقوں میں نوکری حاصل کرنا آسان ہوتا ہے، کیونکہ وہاں افرادی قوت کی کمی کے باعث بعض اوقات کمپنیاں مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کو اسپانسر بھی کر دیتی ہیں۔





