پاکستان سے آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے فاروق اشرف اعوان پاکستان میں گذشتہ 35 سال سے ایمائرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ تقریبا 20 سال سے ضلعی سطح پر ایمپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ایس بی ایس اردو سے ان کی خصوصی گفتگو سنئے اس پوڈکاسٹ میں
ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ موجود ہے لیکن جدید کرکٹ کے لئے جن جدید اس سائنسی سہولیات کی ضرورت ہے اس کی کمی نے کرکٹ میں کارکردگی کو متاثر کیا ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لئے بین الاقوامی لیگز اور پلیٹ فارمز پر کھیلنے کے بہت کم مواقع میسر ہیں
فاروق اشرف نے ایمپائرنگ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی اپروچ اگرچہ کھیل کے حوالے سے معاون ہیں لیکن ایمپائرنگ میں اصل کام انسان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمپائرنگ کئ قوانین پوری دنیا میں ایک ہی ہیں اور اصل فرق کنٹرول کا ہے
ایمپائرنگ کے شعبے کوکیسے اپنایا جا سکتا ہے اس حوالے سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے ضلعی سظح پر امتحان دینا ہوتا ہےا ور پھر قومی سطح کے لئے ایک اضافی امتحان دینا ہوتا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر ایمپائرنگ کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے ملک کے کرکٹ بورڈ کی طرف سے آپ کو نامزد کیا جائے





