آسٹریلیا اور دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ آخر اچانک ان کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اور کیا اس میں مصنوعی ذہانت کا بھی کوئی کردار ہے؟ اس اہم موضوع پر ٹورنز یونیورسٹی کے لیکچرر اور سائبر سیکیورٹی کے محقق عثمان شوکت سے تفصیلی گفتگو اس پوڈکاسٹ میں سنیں۔
عثمان شوکت کے مطابق ڈیٹا سینٹرز طاقتور کمپیوٹرز اور سرورز پر مشتمل بڑی تنصیبات ہوتی ہیں جو ہمارا ڈیٹا محفوظ رکھتی ہیں اور مختلف آن لائن سروسز چلاتی ہیں، اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس کی طلب کو بالکل نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ AI ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے GPUs جیسی طاقتور کمپیوٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ Australian Energy Market Operator کے مطابق ڈیٹا سینٹرز اس وقت ملک کی گرڈ سپلائی کا تقریباً 2 فیصد استعمال کرتے ہیں، جو 2030 تک بڑھ کر 6 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ پانی کی کمی والے علاقوں میں کولنگ کے لیے پانی کا استعمال بھی ایک حقیقی تشویش ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا حل ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنا نہیں بلکہ صحیح مقام، بہتر ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی کنٹرول کو یقینی بنانا ہے، جیسے کہ recycled پانی اور کم پانی استعمال کرنے والی cooling technologies کا استعمال۔
عثمان نے سائبر سیکیورٹی کے پہلو پر بھی روشنی ڈالی، اور بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز کو رہائشی علاقوں یا حساس قومی تنصیبات کے قریب بنانے سے حفاظتی خطرات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگی صورتحال میں ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کے واقعات نے اس تشویش کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق سب سے اہم چیز توازن ہے: توانائی اور پانی کے استعمال کی واضح حدیں، مقام کے فیصلے میں ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھنا، اور disaster recovery کی صلاحیت کو قومی معیارات کے مطابق یقینی بنانا، تاکہ AI کی ترقی کا فائدہ عام آسٹریلوی شہریوں کے مفاد میں ہو۔





